The news is by your side.

Advertisement

کیا کورونا وائرس کی ویکسین کبھی تیار نہیں ہوگی؟

لندن: عالمی اداراہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سینئر ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اگر چہ اس وقت سو سے زائد ویکسین کی تجربہ گاہ میں جانچ اور آزمائش جاری‌ ہے مگر کرونا ویکسین دور دور تک نظر نہیں آرہی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ماہر نے خبردار کیا کہ ایچ آئی وی اور ڈینگی کی بیماریوں پر بھی گزشتہ کئی سالوں سے تحقیق جاری ہے، ان میں سے کچھ انسانی آزمائش کے مرحلے میں داخل بھی ہوگئی ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس وقت سو سے زائد ویکسین پری کلینیکل ٹرائلز اوراُن میں سے چند انسانوں پر آزمائی جاچکی ہیں
مگر خوفناک بات یہ ہے کہ ہمیں کرونا کی ویکسین کے اثرات ابھی نظر نہیں آرہے۔

ڈاکٹر ڈیوڈ نیبرو کا کہنا تھا کہ ‘چند وائرس ایسے ہیں جن کے بارے میں ہم حتمی بات نہیں کرسکتے، اسی وجہ سے اُن کی ویکسین پر کام شروع نہیں ہوسکا۔

امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق کرونا کے کیسز میں ہوشربا اضافے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے، نئی اطلاعات کے مطابق کچھ ممالک میں لاک ڈاؤن میں نرمی بھی کی گئی ہے جس سے صورت حال مزید گھمبیر ہوسکتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چار دہائیوں میں ایچ آئی وی ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میں 3 کروڑ بیس لاکھ لوگ جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ علاوہ ازیں ڈینگی وائرس کی وجہ سے سالانہ چار لاکھ سے زائد اموات ہوتی ہیں۔

کچھ ممالک میں ڈینگی سے بچنے کے لئے ایک ویکسین (ڈینگ ویکسیا) دستیاب ہے جو 9-45 سال کی عمر کے لوگوں کے لئے ہے۔

لیکن ڈبلیو ایچ او نے سفارش کی ہے کہ یہ ویکسین صرف ایسے افراد کو دی جائے جو پہلے سے تصدیق شدہ ڈینگی وائرس کے انفیکشن میں مبتلا رہ چکے ہوں، کوویڈ19 بیماری مستقبل میں ہمارے ساتھ کئی سال رہ سکتی ہے اور معاشی طور پر لاک ڈاؤن پائیدار نہیں ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں