ہفتہ, مارچ 14, 2026
اشتہار

آئی فون چرا کر لاؤ 380 پاؤنڈ لے جاؤ، اسنیپ چیٹ کے ذریعے بچوں کو پیشکش

اشتہار

حیرت انگیز

لندن (18 فروری 2026): لندن کے گینگ بچوں کو اسنیپ چیٹ کے ذریعے آئی فون چرانے کے لیے بھرتی کر رہے ہیں، جدید ماڈلز کے عوض 380 پاؤنڈ تک کی پیشکش کی جا رہی ہے۔

لندن میں موبائل فون کی چوری کی وارداتیں تو کم ہو گئی ہیں مگر اب بھی ہر 8 منٹ میں ایک موبائل فون چوری کر لیا جاتا ہے۔ لندن پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں 2024 کے مقابلے میں 10 ہزار موبائل فون کم چوری ہوئے، 2024 میں 81 ہزار 365 جب کہ 2025 میں 71 ہزار 393 فون چوری ہوئے۔ یعنی فون چوری ہونے کی شرح میں 12 فی صد کمی ریکارڈ کی گئی۔


پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ گینگ بچوں کو اسکول جانے سے پہلے اسمارٹ فون چرانے کے لیے بھرتی کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے اسنیپ چیٹ استعمال کرتے ہوئے جدید ایپل آئی فونز کے عوض 380 پاؤنڈ تک انعام کی پیشکش کی جا رہی ہے۔


دی گارڈین کے مطابق میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ وہ موبائل فون چھیننے کی وارداتوں کے خلاف کارروائی تیز کرتے ہوئے نئے وسائل استعمال کر رہے ہیں، جن میں ڈرونز اور سرون (Surron) الیکٹرک بائیکس شامل ہیں، تاکہ ملزمان کا کامیابی سے تعاقب کیا جا سکے۔

برطانیہ میں موبائل فون چوری سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ لندن ہے اور میٹ کو اس کے ردعمل پر تنقید کا سامنا بھی رہا ہے۔ پولیس کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں چوری کے واقعات میں 12 فیصد کمی آئی ہے اور تعداد کم ہو کر 71 ہزار رہ گئی ہے، تاہم کمشنر مارک راؤلی چاہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں خاص طور پر ایپل مزید اقدامات کریں تاکہ چوری شدہ فونز کو دوبارہ فعال کرنا، خاص طور پر بیرونِ ملک بھیجنے کے بعد زیادہ مشکل بنایا جا سکے۔

پولیس کے مطابق گینگ اسنیپ چیٹ پر مختلف ماڈلز کے چوری شدہ موبائل فونز کے لیے نقد انعامات کی فہرست جاری کرتے ہیں، اور 14 سال تک کے بچوں کو، جو سائیکلوں پر ہوتے ہیں، چوری کے لیے آمادہ کرتے ہیں۔ گینگ جدید ترین ایپل فونز کے لیے سب سے زیادہ رقم دیتے ہیں کیوں کہ میٹ کے مطابق یہ کم محفوظ ہوتے ہیں اور اس لیے انھیں خلیجی ممالک اور چین کی منڈیوں میں بھیج کر دوبارہ فعال کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔


میٹ نے بتایا کہ سام سنگ فونز کی قیمت کم لگائی جاتی ہے کیوں کہ انھیں بیرونِ ملک دوبارہ فعال کرنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ فون چوری کرنے کے بعد کم عمر چور اسنیپ چیٹ پر ایک ’’ہینڈلر‘‘ کو پیغام بھیج کر فون حوالے کرنے کا بندوبست کرتے ہیں۔ اگر ایک ہی دفعہ میں 10 یا اس سے زیادہ چوری شدہ فون جمع کرائے جائیں تو اضافی 100 پاؤنڈ بونس بھی دیا جاتا ہے۔


ایک حالیہ واقعے میں پولیس نے بتایا کہ ایک نوعمر لڑکا صبح سویرے سائیکل پر نکلتا تھا تاکہ لندن کے ایک بڑے ٹرانسپورٹ مرکز کے اطراف مسافروں کو نشانہ بنا سکے اور پھر اسکول چلا جاتا تھا۔ پولیس کو ملنے والے ایک اسنیپ چیٹ اشتہار میں آئی فون 16 میکس کے لیے 380 پاؤنڈ، آئی فون 15 کے لیے 220 پاؤنڈ اور آئی فون 12 کے لیے محض 20 پاؤنڈ کی پیشکش درج تھی۔

مارک راؤلی نے کہا کہ عدالتیں بھی اس مسئلے کے حل میں زیادہ کردار ادا کر سکتی ہیں اور بار بار جرم کرنے والوں کو ضمانت پر رہا کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ایک حالیہ کیس میں پولیس نے 12 نوجوانوں کے ایک گروہ کو موبائل فون چوری کے الزام میں گرفتار کر کے فردِ جرم عائد کی۔ اگلے ہی دن کچھ کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا، اور گرفتاری کے 24 گھنٹوں کے اندر ہی ان پر دوبارہ فون چوری کرنے کا شبہ ظاہر کیا گیا۔

راؤلی نے کہا ’’صرف پولیسنگ سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ مینوفیکچررز اور ٹیکنالوجی کمپنیاں مزید اقدامات کریں تاکہ مجرم چوری شدہ فونز کو ری سیٹ، دوبارہ استعمال یا فروخت نہ کر سکیں۔ ہمیں عدالتوں سے بھی تعاون درکار ہے تاکہ بار بار جرم کرنے والوں کو ضمانت پر رہا نہ کیا جائے اور وہ دوبارہ جرم کر کے افسران کی محنت کو ضائع نہ کریں، جو کمیونٹیز کو محفوظ رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘‘


میٹ کا کہنا ہے کہ ڈرونز معلوم مجرموں کو ہدف بنانے اور فرار ہونے والے ملزمان کا سراغ لگانے میں مدد دیں گے، خاص طور پر لندن کے ویسٹ اینڈ علاقے میں، جو دارالحکومت میں موبائل فون چوری کا بڑا مرکز ہے اور جہاں سیاحوں کو چور نسبتاً آسان ہدف سمجھتے ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ خصوصی تربیت یافتہ افسران کی زیرِ استعمال سرون الیکٹرک بائیکس کم عمر ملزمان، جو سائیکلوں پر ہوتے ہیں، کو پکڑنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔


پولیس نے یہ بھی بتایا کہ لائیو فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی نے ملزمان کو پکڑنے میں کردار ادا کیا ہے اور اسے آئندہ بھی استعمال کیا جاتا رہے گا۔ لندن کے میئر صادق خان نے کہا کہ ان کی انتظامیہ ایک نئے کمانڈ سینٹر کے لیے اضافی 45 لاکھ پاؤنڈ فراہم کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا ’’ہم نے زیادہ تعداد میں ہونے والے جرائم میں کمی کے حوالے سے حقیقی پیش رفت کی ہے، لیکن میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ موبائل فون چوری کا ذاتی سطح پر کتنا گہرا اثر ہوتا ہے اور یہ کتنا تکلیف دہ ہے جب کسی کی تصاویر، رابطے، پیغامات اور ذاتی معلومات چوری ہو جائیں۔‘‘

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں