The news is by your side.

Advertisement

لندن، پڑوسی بچوں کا شور شرابہ، خاتون عدالت پہنچ گئیں

لندن : ہمسائیوں کے بچوں کے شور شرابے سے پریشان برطانوی خاتون نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے فلیٹ خالی کرانے کی درخواست کردی۔

تفصیلات کے مطابق مغربی لندن کے علاقے کینسنگٹن کی 38 سالہ رہائشی خاتون سرویناز فولادی کینسگٹن نے اپنی درخواست میں مقامی عدالت کو بتایا کہ مجھے صبح نو بجے چاک و چوبند اور بیدار رہنے کے لیے چاکلیٹ کھانی پڑتی ہے کیوں کہ ہمسائے کے بچے رات بھر دھما چوکڑی مچائے رکھتے ہیں جس سے میں پوری نیند نہیں لے پاتی۔

انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ مجھے اس اذیت کا سامنا گزشتہ سات سال ہے اور اب یہ ناقابل برداشت حد تک بڑھ چکا ہے کیوں پانچویں منزل کے رہائشی الکریمی خاندان کے بچے چھت پر کودتے رہتے ہیں جس سے بہت شور برپا ہوتا ہے۔

فولادی کا کہنا تھا کہ بچے گھر کو کھیل کا میدان تصور کرتے ہیں اور جس طرح میدان میں اچھل کود کی جاتی ہے اسی طرح تمام رات غل غپاڑہ کرتے رہتے ہیں جس کےباعث میں سو نہیں پاتی ہوں۔

 

تاہم جواباً الکریمی خاندان کا اپنے وکلاء کے ذریعے عدالت میں کہنا تھا کہ فولادی حساس خاتون ہیں جو اپنی والدہ کے ہمراہ تنہا فلیٹ میں قیام پذیر ہیں شاید اسی لیے انہیں معمول کے شور شرابے کی عادت نہیں اور وہ اسے غیر معمولی سمجھ رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مس فولادی معمولی آوازوں کو ریکارڈ کر کے جان بوجھ کر دیگر ہمساؤں کو عدالت کھینچتی ہیں جب کہ بچوں کا شور شرابہ معمولی نوعیت کا ہوتا ہے اور شاید زیادہ آوزایں آنے کا سبب حال ہی میں کی گئی فلیٹ کی تزئین و آرائش ہو جس میں معیار کا خیال نہیں رکھا گیا ہو۔

درخواست گزار سرویناز فولادی نے بتایا کہ میں 12 سال کی تھی جب ایران سے لندن آئیں اور آج میں 38 سال کی ہوں اور ایک بہترین کیریر رکھتی ہوں اس لیے یہ ممکن نہیں کہ میں معمولی چیز کو بڑھا چڑھا کر پیش کروں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں