The news is by your side.

Advertisement

لندن: کشمیر کا مقدمہ بلوچستان کے ذریعے دبانے کی بھارتی کوشش ناکام

لندن: کامن ویلتھ سربراہ اجلاس میں بھارتی وزیراعظم کی آمد کے موقع پر کشمیریوں اور سکھوں کے مظاہرے کو پسِ منظر میں ڈالنے کی بھارتی سازش ناکام ہوگئی، بلوچستان کے نام پر اکھٹے کیے گئے چند نا معلوم افراد سے جب ان کے بارے میں گفتگو کی تو خلاف بھارتی لابی کی سازشیں ناکام، بلوچستان کے نام پر اکٹھے کئے گئے نامعلوم افراد شناخت پوچھنے پر بھاگ کھڑے ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق لندن میں مقیم کشمیری اور سکھ بھارتی مظالم کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور ان کا برطانوی حکومت سے مطالبہ ہے کہ مودی ایک دہشت گرد ہے جو بھارت میں اقلیتوں کے حقوق غصب کررہا ہے،برطانوی حکومت اس پر دباو ڈالے اور اسے خوش آمدید نہ کہے۔

کامن ویلتھ سربراہان میں شرکت کیلئےدولتِ مشترکہ کے رکن ممالک کے سربراہان لندن میں موجود ہیں، سربراہ اجلاس میں بھارتی وزیر اعظم نریند مودی کی آمد پر برطانیہ میں مقیم کشمیری،سکھ اور دیگر مودی مخالف تنظیموں نے بھرپور احتجاج کیا۔

مظاہرے کی قیادت آزاد کشمیر کے وزیر اعظم فاروق حیدر،آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چوہدری یاسین،سابق وزیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری،برطانوی رکن پارلیمنٹ لارڈ نزید احمد، آزادکشمیر کے وزیر امور نوجوانان چوہدری محمد سعید، سکھ رہنما رنجیت سنگھ اور دیگر سکھ اور کشمیری راہنماؤں نے کی۔

مودی مخالف مظاہرے میں ممبران پارلیمنٹ افضل خان، عمران حسین، ناز شاہ کے علاوہ پانچ ہزارسے زائد افراد نے شرکت کی جن میں کشمیری، سکھ، تامل اور ناگالینڈ سے تعلق رکھنے والے برطانوی شہری شامل تھے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں مودی مخالف کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر مودی دہشت گرد اور گو مودی گو بیک کے نعرے درج تھے۔ مظاہرین مودی قاتل ،مودی دہشت گرد کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔ برطانوی پارلیمنٹ کے سامنے ہونیوالے مظاہرہ دوپہربارہ بجے سے سہ پہر چار بجے تک جاری رہا، اس موقع پر چند سو بھارتی مظاہرین بھی مودی کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے کشمیری اور سکھ مظاہرین کےسامنے آ گئے ،جنہیں پولیس کی بھاری نفری نے قابو کرکے موقع سے ہٹا دیا۔

نریندر مودی کے حامیوں کے ساتھ ساتھ چند نامعلوم افراد بلوچستان کے نام پر ریاست پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے مگر اے آر وائی نیوز نے جب ان سے بات کرنے کی کوشش کی اور ان کی شناخت پوچھی تو وہ وہاں سے نکل گئے۔ کشمیری اور سکھ مظاہرین نے پارلیمنٹ سکوائر میں لگے بھارت کے ترنگے کو اتار کر وہاں کشمیر اور خالصتان کے جھنڈے نصب کر دئیے۔ کامن ویلتھ سربراہ اجلاس اٹھارہ سے بیس اپریل تک جاری رہے گا۔

کشمیری اور سکھ مظاہرین نے مقبوضہ کشمیر میں کم سن آصفہ کے انصاف کے لئے نعرے بازی کی گئی اور برطانیہ سمیت عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اس وقوعہ کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب اے آر وائی نیوز نے مودی کے حامیوں سے بات کی تو انہوں نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوے آٹھ سالہ کشمیری بچی آصفہ بانو سے زیادتی اور قتل کے واقعے کی مذمت کرنے سے انکار کردیا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں