جمعہ, جنوری 23, 2026
اشتہار

بانی پی ٹی آئی کا پراجیکٹ لاکر ملک کو نقصان پہنچایا گیا رانا ثنااللہ

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد : وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو پراجیکٹ کے طور پر لاکر ملک کو نقصان پہنچایا گیا، فیض حمید سانحہ 9 مئی کے ڈائریکٹر تھے۔

یہ بات انہوں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام اعتراض ہے میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فیض حمید کو جو سزا ہوئی وہ مکافات عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف، شہباز شریف، مریم نواز، احسن اقبال اور مجھ سمیت دیگر رہنماؤں پر جھوٹے مقدمات بنے۔ جب لیگی رہنماؤں کو سزائیں ہورہی تھیں اس وقت فیض حمید سیاہ سفید کے مالک تھے۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ فیض حمید کی اپروول سے سزائیں دی جاتی تھیں وہ بذات خود چیزیں دیکھتے تھے، جیسا انسان کرتا ہے ایک دن اسے اسی چیزوں کا سامنا ہوتا ہے اللہ سے ڈرنا چاہیے۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ نوازشریف کا مؤقف ہے کہ پاکستان 2017میں ٹریک پر آچکا تھا، 2017 میں بانی پی ٹی آئی کو پراجیکٹ کے طور پر لاکر ملک کو نقصان پہنچایا گیا۔

جنرل (ر) قمرباجوہ، فیض حمید اور دیگر لوگوں کی مدد سے بانی پی ٹی آئی کو لانچ کیا گیا، بانی پی ٹی آئی پراجیکٹ کو لانے میں ثاقب نثار اور دیگر رفقاء بھی شامل تھے، فیض حمید بھی اکیلے نہیں ان کے ساتھ قمر باجوہ سمیت اور لوگ شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 12اکتوبر1999ملکی تاریخ میں نہ آتا تو ملک 10سال پہلے بہت بہتر حالت میں ہوتا، قمر باجوہ جب طاقت میں تھے تو اس وقت بھی نوازشریف کہتے رہے کہ اس ساری صورتحال کے آپ ذمہ دار ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں رانا ثنااللہ نے کہا کہ جو چیزیں راز ہوتی ہیں وہ راز رہتی ہیں، میاں صاحب جانتے ہیں کہ کون کیا کہتا تھا، 9مئی اور آرمی چیف کی تعیناتی کے وقت لانگ مارچ میں فیض حمید کا بہت عمل دخل تھا۔

فیض حمید لانگ مارچ اور 9 مئی واقعات کے ڈائریکٹر تھے، 9 مئی سمیت دیگر معاملات کی تفتیش کا عمل پہلے سے جاری ہے۔ میرا خیال ہے فیض حمید کا سیاسی مداخلت کا کیس ملٹری کورٹ میں ہی چلے گا۔ فیض حمید کے ساتھ سیاستدان اور سیاسی جماعتوں کابھی ٹرائل پھر ملٹری کورٹ میں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کیا میثاق جمہوریت اس کی اجازت دیتا ہے کہ ملک میں انارکی پھیلائی جائے، کوئی آرمی افسر کے ساتھ سویلین ملوث ہے تو اس پر بھی قانون موجود ہے، ملاقاتیں قانون کے دائرے میں رہ کر کریں تو کوئی ا عتراض نہیں۔

پیغام رسانی کے بجائے ملاقاتیں قانون کے مطابق ہوں تو میں خود اس کا حامی ہوں، سپرنٹنڈنٹ نے عظمیٰ خان کو ملاقات سے پہلے درخواست کی تھی پیغام رسانی کا کام نہ کریں۔

کے پی میں گورنر راج سے متعلکق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ کے پی دہشت گردی کیخلاف وفاق ،فوج کی پالیسی میں رکاوٹ نہ بنیں، اگر وزیراعلیٰ ان 2چیزوں میں رکاوٹ نہ بنے تو یقین ہے گورنر راج نہیں لگے گا۔

پی ٹی آئی کی جانب سے دھرنے یا لانگ مارچ کے حوالے سے کیے جانے والے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی نے احتجاج کا اعلان کیا گیا تو انہیں اسلام آباد کی طرف آنے سے روکا جائے گا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں