The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس کے دیرپا اثرات نے ماہرین کو پریشان کردیا

کرونا وائرس سے صحت یاب ہونے کی شرح 97 فیصد سے زائد ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے دیرپا اثرات آہستہ آہستہ سامنے آرہے ہیں جو نہایت ہی تشویشناک ہیں۔

امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق کے مطابق کوویڈ 19 بیماری کو شکست دینے والے افراد کو کئی ماہ بعد بھی طبی اور مالی مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ یہ تحقیق طبی جریدے جرنل اینالز آف انٹرنل میڈیسن میں شائع ہوئی۔

مشی گن یونیورسٹی ہیلتھ سسٹم کی اس تحقیق میں کووڈ 19 کے ایسے 488 مریضوں کا جائزہ لیا گیا، جو مشی گن کے اسپتالوں میں زیر علاج رہنے کے بعد ڈسچارج ہو چکے تھے۔

16 مارچ سے یکم جولائی کے دوران اسپتال سے ڈسچارج ہونے والے ان افراد کا جائزہ 2 ماہ بعد لیا گیا۔

تحقیق کے مطابق ایک تہائی افراد نے طبی مسائل جیسے کھانسی کے ساتھ نئے یا پہلے سے بدتر علامات اور سونگھنے یا چکھنے کی حس سے مسلسل محرومی کو رپورٹ کیا۔

لگ بھگ 50 فیصد مریضوں کا کہنا تھا کہ وہ اس بیماری کے باعث جذباتی طور پر متاثر ہوئے جبکہ 28 فیصد نے ذہنی صحت کے مراکز کے لیے رجوع کیا۔

36 فیصد نے اسپتال میں زیر علاج رہنے پر معمولی مالی مشکلات کو رپورٹ کیا جبکہ 40 فیصد اپنی ملازمتوں سے فارغ یا اتنے کمزور ہوگئے کہ کام پر واپس نہیں جا سکے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس بیماری کو شکست دینے والے بیشتر افراد کے لیے معمول کی سرگرمیاں بحال کرنے کی صلاحیت جسمانی اور جذباتی علامات کے باعث کمزور ہوجاتی ہے جبکہ مالی نقصانات بھی عام ہیں۔

اس طرح کی مختلف تحقیقی رپورٹس حالیہ مہینوں کے دوران سامنے آئی ہے اور ایسے مریضوں کی علامات کو لانگ کوویڈ کا نام دیا گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں