جمعہ, مئی 8, 2026
اشتہار

لارڈ بائرن:‌ عظیم رومانوی شاعر

اشتہار

حیرت انگیز

برطانیہ کے مقبول ترین شاعر لارڈ بائرن کو اس بعض نظریات اور عادات کی وجہ سے اس وقت کی ایک ناپسندیدہ شخصیت بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے باوجود وہ انگریزی زبان کا عظیم رومانوی شاعر تھا جس کی فنی عظمت کے کئی بڑے اہلِ قلم معترف رہے ہیں۔

عہد وکٹوریہ کے ممتاز شعراء میں سے ایک میتھیو آرنلڈ نے کہا تھا: ’’لارڈ بائرن لکھنے پر مجبور ہے اور ہم اسے پڑھنے پر مجبور ہیں۔‘‘ لارڈ بائرن نے 22 جنوری 1788ء کو لندن میں پیدا ہوا۔ بائرن نے جس گھرانے میں آنکھ کھولی تھی، وہ خاندان اپنے محلّے داروں اور جاننے والوں میں خبطی اور بدتہذیب مشہور تھا۔ اس کے والد کا نام جیک بائرن تھا جنھیں کوئی پسند نہیں کرتا تھا۔ وہ پاگل مشہور تھا۔ بائرن کا دادا بحریہ میں افسر تھا، اور اسے بھی ایک عجیب و غریب آدمی کہا جاتا تھا۔ بقول ایک نوکرانی کے وہ کثرتِ مے نوشی کے بعد فرش پر لیٹ جاتا اور مخصوص آواز نکال کر حشرات کو اپنے جسم پر رینگنے کی دعوت دیتا۔ یہ عمل وہ ایک عرصہ سے کر رہا تھا اور یہ بات کس قدر تعجب خیز ہے کہ مکڑیاں، چوہے اور چھپکلیاں جیسے موذی اور کریہہ حشرات یہ آوازیں سن کر اس کے قریب آجاتے۔ جب وہ تھک جاتا تو انھیں بھگا دیتا۔ بائرن کی ماں بھی ایک جھگڑالو اور بدزبان عورت مشہور تھی۔ لارڈ بائرن کا ایک پاؤں پیدائشی طور پر ٹیڑھا تھا۔ وہ کچھ لنگڑا کر چلتا تھا۔ کم عمری میں‌ بائرن اپنے باپ کی شفقت سے محروم ہو گیا۔ پیر کے علاج کے لیے اس کی ماں اسے ایک ایسے ڈاکٹر کے پاس لے گئی جس نے بائرن کی تکلیف بڑھا دی اور وہ ساری زندگی لنگڑا کر چلتا رہا۔

بائرن کا دادا نہایت امیر آدمی تھا۔ یہی دولت بائرن کو منتقل ہوئی تھی اور اس نے ساری دولت عیاشی میں اڑا دی۔ دولت و ثروت کی بنیاد پر بائرن کو لارڈ کا خطاب ملا اور وہ پارلیمنٹ کا ممبر بن گیا، جہاں اس نے اپنے خیالات کا اظہار کچھ اس طرح‌ کیا کہ پورا لندن اس کا مخالف ہو گیا۔ اس نے دو تقریریں کیں، جن میں خطابت کے جوہر تو دکھائے، لیکن لندن کے باسیوں اور ان کے طرزِ زندگی پر کڑی تنقید بھی کی۔ اس نے اشرافیہ کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اس کی دوسری تقریر مزدوروں کے حق میں تھی۔ وہ صنعتی انقلاب کا بڑا مخالف ثابت ہوا اور مشینوں کو بے روزگاری کا سبب بتایا۔ اس کا کہنا تھا کہ ہر مشین 50 مزدوروں کو گھر بٹھا دیتی ہے۔ بائرن کی دوسری تقریر پر مذہبی طبقہ مشتعل ہوگیا۔ لارڈ بائرن نے مذہب کو ریاست کا حصّہ بنانے کی مخالفت کی تھی۔ وہ مذہبی آزادی کا قائل تھا اور سمجھتا تھا کہ ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہونا چاہیے۔ بائرن کے ان نظریات نے مذہبی پیشواؤں کو اس کا مخالف کردیا اور انھوں نے اپنے پیروکاروں کو اس پر بھڑکایا۔ بائرن اس موقع پر دنیا کی سیر کرنے کی غرض سے نکل پڑا۔ بعد میں حالات کچھ بہتر معلوم ہوئے تو لندن لوٹا اور تب اپنی تخلیقات کو کتابی شکل میں پیش کیا اور مقبول ہوا۔ دنیا کی کئی زبانوں‌ میں اس کی شاعری کے تراجم کیے گئے ہیں۔

برطانیہ میں بائرن کی شاعری اتنی مقبول ہوئی کہ اسے انگریزی زبان میں رومانوی عہد کا سب سے بڑا شاعر کہا جانے لگا۔ بائرن بھی اپنے خاندان کا ایسا فرد ثابت ہوا جس کے بارے میں اکثر لوگوں کی رائے کچھ اچھی نہ تھی۔ کوئی اسے پاگل سمجھتا تو کسی کے نزدیک وہ بدتمیز اور جاہل تھا۔ اس نے برطانوی اشرافیہ اور مذہب پرستوں کو ہی نہیں اہلِ‌ قلم کو بھی خود سے متنفر کردیا اور اس دور کے مقبول ترین تخلیق کاروں ورڈز ورتھ اور کولرج پر کڑی تنقید کی۔ اس نے بائرن کی کتابوں کی خرید و فروخت کو بھی متاثر کیا لیکن وہ باز نہ آیا۔ لندن میں اپنی بے پناہ مخالفت سے بیزار ہوکر بائرن یورپ چلا گیا جہاں اسے بہت پذیرائی ملی۔

بائرن کو جانوروں سے بڑی محبت تھی۔ اس نے لومڑی، بندر، طوطا، بلّی، عقاب اور دیگر جانور پال رکھے تھے۔ اسے سب سے زیادہ محبت اپنے کتّے سے تھی۔ 1823ء میں یونانیوں اور ترکوں کے مابین جنگ شروع ہوئی اور ترک فوج نے لی پانٹو نامی قلعے پر قبضہ کر لیا تو بائرن نے بھی اس قبضے کے خلاف جنگ میں حصّہ لیا۔ بائرن یونان کا حامی تھا۔ اس نے یونانی جرنیل کے ساتھ مل کر قلعے کا قبضہ حاصل کرنے کا ایک منصوبہ بنایا اور حملہ کر دیا، لیکن اس میں وہ زخمی ہو گیا اور 19 اپریل 1824ء کو اس کی موت واقع ہوگئی۔

وہ فوج میں بھی بہت مقبول تھا۔ اس کے بارے میں مشہور ہوگیا کہ اگر بائرن زندہ رہتا تو اسے یونان کا بادشاہ بنا دیا جاتا۔ فطری بات ہے کہ بائرن کی تدفین لندن میں کی جاتی، لیکن یونانی اس کا مدفن اپنی سرزمین پر دیکھنا چاہتے تھے اور اس کے لیے ایک عجیب و غریب فیصلہ کیا گیا۔ بائرن کا دل یونان میں دفن کیا گیا جب کہ جسد خاکی لندن پہنچایا گیا جہاں‌ مذہبی حلقوں کی مخالفت کے سبب اس کی تدفین مشکل ہوگئی۔ لیکن دو دن کے بعد بائرن کو سینٹ میری چرچ کے قبرستان میں دفنا دیا گیا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں