اتوار, جون 14, 2026
اشتہار

پسند کی شادی، گاؤں محمد صدیق آرائیں میں پولیس کو پکٹس قائم کرنی پڑ گئیں

اشتہار

حیرت انگیز

جیکب آباد (17 مئی 2026): سندھ کے شہر جیکب آباد میں پسند کی شادی پر لڑکی کی چنہ برادری نے لڑکے کے گاؤں محمد صدیق آرائیں میں برڑو برادری پر حملہ کر کے درجنوں گھر جلا دیے، جس پر پولیس نے مداخلت کر کے حالات قابو میں کر کے وہاں پکٹس قائم کر دی ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق مسلح افراد نے حملہ کر کے گاؤں محمد صدیق آرائیں کے درجنوں گھر جلا ڈالے ہیں، سدرہ چنہ اور محمد حسن نے 5 مئی کو حیدر آباد جا کر پسند کی شادی کی تھی، شادی کی ویڈیو آنے پر مسلح افراد نے محمد حسن کے خاندان کے 100 سے زیادہ گھر پھونک ڈالے ہیں۔

پولیس نے واقعے پر 2 الگ الگ مقدمات درج کر لیے ہیں، جن میں سے ایک گاؤں جلانے کا ہے جب کہ دوسرا لڑکی کے اغوا کا ہے، حالاں کہ ویڈیو پیغام میں لڑکی نے کہہ دیا ہے کہ وہ بالغ ہے اور اس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے، جب کہ حسن نے اپیل کی ہے کہ ان کی جان کو بھی خطرہ ہے، اس لیے انھیں تحفظ فراہم کیا جائے۔

ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لڑکی حکومت کی تحویل میں اور محفوظ ہے، پسند کی شادی کرنا لڑکی کا حق ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ملزمان گھر جلانے گئے تو پولیس موقع پر پہنچی اور 5 افراد کو گرفتار کیا، دیگر ملزمان موقع سے فرار ہو گئے اور ضمانت قبل از گرفتاری کروا لی۔


جیکب آباد میں پسند کی شادی پر پورا گاؤں جلا دیا گیا


سعدیہ جاوید کے مطابق حکومت پہلے دن سے ایکشن میں ہے اور یہ معاملہ اب عدالت میں ہے، جن لوگوں کے گھروں کا نقصان ہوا ہے حکومت اس کا ازالہ کرے گی۔ ترجمان سندھ حکومت نے جلائے گئے گھروں کی درست تعداد سے لا علمی کا اظہار بھی کیا۔

واضح رہے کہ فساد کے بعد گاؤں محمد صدیق آرائیں میں پولیس کو پکٹس قائم کرنی پڑ گئی ہیں، ایس ایس پی فیضان علی نے ایک بیان میں کہا کہ سدرہ چنہ کے اغوا کا مقدمہ درج ہوا تھا، جس پر پولیس نے تفتیش شروع کی، پھر معلوم ہوا کہ لڑکی نے کراچی کی عدالت میں پسند کی شادی کر لی ہے، اور شادی کی ویڈیو وائرل ہونے پر چنہ برادری مشتعل ہو گئی۔

ایس ایس پی نے بتایا کہ مشتعل افراد نے گاؤں محمد صدیق آرائیں پر حملہ کر کے ’’کچھ گھروں کو‘‘ آگ لگا دی، تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کر کے صورت حال پر قابو پایا اور مزید نقصان سے بچا لیا، جب کہ واقعے میں ملوث 5 افراد کو گرفتار کر لیا گیا، اور ان کے خلاف انسداد دہشت گردی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا، جس میں 12 نامزد اور 20 نامعلوم افراد شامل کیے گئے ہیں۔

ایس ایس پی کے مطابق ڈی ایس پی ٹھل کی سربراہی میں ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو اس کیس کی تحقیقات کر رہی ہے، جب کہ متاثرہ گاؤں میں پولیس پکٹس قائم کر لی گئی ہے اور صورت حال کنٹرول میں ہے، اور برڑو برادری کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔

محمد موسیٰ بلوچ
+ posts

اہم ترین

مزید خبریں