نئی دہلی (15 مارچ 2026): بھارت میں ایل پی جی گیس کی کمی نے شہریوں کو پریشان کر دیا ہے، مودی حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ کسی قسم کی قلت نہیں ہے لیکن زمینی حقیقت اس سے مختلف ہے۔
شہری کئی علاقوں میں 4 سے 5 دنوں سے لائن لگا کر سلنڈر کا انتظار کر رہے ہیں، کچھ خواتین اپنی مشکلات بیان کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں، ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، مرد حضرات بھی اپنی بے بسی ظاہر کرتے آبدیدہ نظر آئے۔
کانگریس نے اس بحران کو وزیر اعظم نریندر مودی اور حکومت کے سامنے اٹھا دیا ہے، پارٹی نے متعدد ویڈیوز شیئر کی ہیں، جن میں لمبی قطاریں اور پریشان شہری دکھائی دے رہے ہیں۔
ایک شخص نے ویڈیو میں بتایا کہ وہ رات 3 بجے سے لائن میں کھڑا ہے، صبح 11 بجے تک گیس نہیں ملی، اس کے گھر والے بھی بھوکے ہیں۔ وہ بس اتنا کہہ پایا ’’رات سے کھڑے ہیں، گیس نہیں مل رہی… مت پوچھیے۔‘‘
मेरे घर में खाना नहीं बन रहा. एक हफ्ते से दौड़ रहे हैं लेकिन गैस सिलेंडर नहीं मिल रहा है.
– ये कहते हुए एक महिला रो पड़ी
महिला ने कहा- बच्चों को कुछ खिला देते हैं और खुद भूखे रहते हैं.
लाइन लगाने के चक्कर में न दिहाड़ी कमा पा रहे, न सिलेंडर मिल रहा है.
सुनिए 👇 pic.twitter.com/LfQaEnodCl
— Congress (@INCIndia) March 14, 2026
देश की जनता LPG संकट में त्रस्त
नरेंद्र मोदी अपनी मौज में मस्त pic.twitter.com/M2lXKlu7EV— Congress (@INCIndia) March 14, 2026
नरेंद्र मोदी कह रहे हैं- देश में सब चंगा है, कुछ लोग पैनिक क्रिएट कर रहे हैं। गैस की कोई कमी नहीं है।
नरेंद्र मोदी जी, अपने राजमहल से निकलिए और जमीनी हालात देखिए। जनता रो रही, तड़प रही है।
ये वीडियो जयपुर का है, जहां आपकी सरकार है। लोग घंटों तक गैस की लाइन में खड़े हैं। pic.twitter.com/ckjR2zjkdi
— Congress (@INCIndia) March 14, 2026
नरेंद्र मोदी को ‘परवाह’ ही नहीं है pic.twitter.com/ZTDPygj8ml
— Congress (@INCIndia) March 14, 2026
کانگریس نے ایک خاتون کی ویڈیو بھی شیئر کی جو کہ ایک ہفتے سے گیس سلنڈر نہ ملنے پر شدید پریشان نظر آئی۔ اس نے کہا ’’میرے گھر میں کھانا نہیں بن رہا، لائن میں کھڑے ہونے کے چکر میں نہ دہاڑی کر پا رہے نہ ہی سلنڈر مل رہا۔‘‘
کانگریس نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا ’’مودی صاحب، عوام رو رہی ہے، جئے پور میں لوگ گھنٹوں لائن میں کھڑے ہیں، لیکن حکومت چادر تان کر سو رہی ہے۔‘‘
ایک ویڈیو میں شہری شکایت کر رہے ہیں کہ انھیں موبائل پر سلنڈر ڈیلیوری کا میسج آیا لیکن حقیقت میں سلنڈر نہیں ملا۔ کچھ کے پاس بتایا گیا کہ اگلا سلنڈر 28 مارچ کو ملے گا۔ کانگریس نے کہا ’’یہ بدعنوانی ہے۔ کالابازاری ہو رہی ہے۔ عوام بے حال ہیں، حکومت خاموش ہے۔‘‘
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


