site
stats
پاکستان

پاک ایران سرحدی حدود میں تعمیر ہونے والے “باب پاکستان” کا افتتاح

چاغی : پاک ایران سرحدی حدود میں پاکستان کے نام سے بنائے گئے گیٹ باب پاکستان کا افتتاح کر دیا ، کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے کردیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق چاغی میں پاک ایران سرحدی حدود میں پاکستان کے نام سے بنائے گئے گیٹ کا افتتاح کیا گیا، گیٹ کا افتتاح کمانڈر سدرن کمانڈلیفٹیننٹ عامرریاض نے کیا، گیٹ کی افتتاحی تقریب میں بلوچستان کے اعلی سول اور فوجی حکام نے شرکت کی۔

 

riaz

گیٹ کی تعمیر پر دو کروڑ روپے کی لاگت آئی، پاکستان گیٹ تعمیر کرنے کا مقصد پاک ایران تجارتی نقل وحرکت کو بڑھانا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق باب پاکستان پر جدید سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں جبکہ متعلقہ دستاویزات کی تصدیق کے لیے نادرا کا سسٹم بھی نصب کیا گیا ہے، اس کے علاوہ محکمہ کسٹمز، ایف آئی اے اور امیگریشن کے دفاتر بھی قائم کیے گئے ہیں، جس پر لیویز اور فرنٹیئر کور تعینات ہیں۔

پاکستان گیٹ کی تعمیر سے تفتان میں بارڈر ٹرمینل کی تعمیر کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا، جس کا آغاز 16 جولائی 2016 میں ہوا تھا۔ بارڈر ٹرمینل کی تعمیر دو گیٹس کی تیاری پر مشتمل تھی، جن میں سے پہلا گیٹ زیرو لائن پر جبکہ دوسرا یادگاری گیٹ پاکستانی حدود میں سرحد سے 200 میٹر اندر اونچے مقام پر تعمیر کیا گیا جو سرحد کے دونوں اطراف سے دو کلومیٹر دور سے بھی نظر آجاتا ہے۔

پروجیکٹ کا دوسرا مرحلہ بھی جلد شروع کردیا جائے گا، جس میں ایران جانے والے زائرین و دیگر مسافروں کے لیے آرام گاہ اور تجارتی سرگرمیوں کا انتظام چلانے کے لیے این ایل سی یارڈ کی تعمیر شامل ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ راستہ ایران اور یورپ سے تجارت کے لیے استعمال ہونے والا قدیم ترین ہے اور ہر سال ہزاروں ملکی و غیر ملکی مسافر اس راستے یورپ اور ایران سے سفر کرتے ہیں، اسی راستے سے اسلامہ جمہوریہ پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔

یاد رہے کہ ضلع چاغی میں تفتان کے مقام پر ‘پاکستان گیٹ’ کا سنگ بنیاد رواں برس ہی رکھا گیا تھا، ایران پہلے ہی اپنی حدود میں میر جاوا کے مقام پر گیٹ تعمیر کرچکا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی ایران سمیت دیگر ممالک کے ساتھ 900 کلو میٹر طویل سرحد ہے جبکہ ان پڑوسی ممالک سے 2014 میں سیکیورٹی کے حوالے سے تعاون بڑھانے اور سرحد سے دہشت گردوں کے خاتمے کا فیصلہ ہوا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top