موڈ کو خوشگوار بنانے والی ٹیک عینک -
The news is by your side.

Advertisement

موڈ کو خوشگوار بنانے والی ٹیک عینک

کیا آپ سال کے کچھ دن ایسا محسوس کرتے ہیں جیسے آپ کا دل ہر شے سے اکتا گیا ہو اور کسی چیز میں دل نہ لگ رہا ہو؟

اس کے ساتھ ساتھ آپ خود کو ایک نامعلوم اداسی اور ڈپریشن میں گھرا ہوا بھی محسوس کرتے ہیں۔ تو پھر یہ لیومینیٹ تھراپی گلاسز آپ کے لیے ہیں۔

اس عینک کو موڈ کو بدلنے والی عینک قرار دیا گیا ہے۔ اس ٹیک عینک میں موجود روشنیاں ایک تھراپی کی صورت آپ کے دماغ پر اثر انداز ہوتی ہیں اور آپ کو ڈپریشن کی اس کیفیت سے نکلنے میں مدد دیتی ہیں۔

دراصل یہ عینک ’سیڈ‘ نامی مرض کا شکار افراد کے لیے بنائی گئی ہے جو سیزنل افیکٹو ڈس آرڈر کا مخفف ہے۔

اس مرض کے شکار افراد کا مزاج پورا سال معمول کے مطابق رہتا ہے، تاہم سال میں کسی ایک مخصوص وقت یہ اداسی اور ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں جس کی بظاہر کوئی خاص وجہ نہیں ہوتی۔

مزید پڑھیں: موڈ کو تیزی سے تبدیل کرنے والا مرض ۔ علامات جانیں

کچھ عرصے بعد یہ پہلے کی طرح معمول کے مطابق ہوجاتے ہیں، تاہم اگلے سال پھر انہی دنوں میں وہ اسی کیفیت کا شکار ہوجاتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق سال کے کسی ایک مخصوص وقت میں اپنا نشانہ بنانے والا یہ مرض زیادہ تر موسم سرما میں ظاہر ہوتا ہے، اور اس وقت کو ڈارک ڈیز، ڈارک ونٹر منتھ یا ڈارک موڈ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

مختلف روشنیوں کی حامل اس عینک میں مختلف مدھم روشنیاں شامل کی گئی ہیں جن میں سورج جیسی روشنی بھی شامل ہے جو دماغ کو امید کا پیغام پہنچاتی ہے۔

مزید پڑھیں: موڈ کو خوشگوار بنانے والی 5 غذائیں

یہ روشنیاں دماغ میں میلاٹونن نامی مادے میں اضافہ کرتی ہیں جو ہمارے دماغ کو پرسکون بناتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ نیند کو بھی بہتر اور پرسکون کرتی ہیں جس سے دماغی حالت میں بہتری آتی ہے۔

یہ مختلف مدھم روشنیاں آنکھوں پر براہ راست نہیں پڑتیں بلکہ ان سے ذرا اوپر رہتی ہیں جس کے باعث سامنے دکھائی دی جانے والی ہر شے چشمے کے رنگوں میں ڈھلی نظر آتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ چشمہ مکمل طور پر ’سیڈ‘ سے تحفظ تو نہیں دے سکتا، البتہ اس کی کیفیات جیسے بیزاری، بے چینی، اداسی اور تھکن کی شدت کو کم کرسکتا ہے جس سے مریض کا موڈ خوشگوار ہوگا، اس کی توانائی بحال ہوگی اور وہ معمولات زندگی کو بہتر طور پر انجام دے سکے گا۔

اسے تیار کرنے والی کمنپی کی تجویز ہے کہ سیڈ سے متاثرہ افراد اسے روزانہ کم از کم 45 منٹ کے لیے استعمال کریں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں