site
stats
سائنس اور ٹیکنالوجی

چاند پر ایک مستقل کالونی کا خواب‘ حقیقت ہوسکتا ہے؟

Lunar lava Tube

سائنسدانوں نے چاند پر ایک شہر کے عمومی رقبے جتنی لاوا کی سرنگ دریافت کی ہے‘ جس کے بارے میں ان کا خیال ہےکہ مستقبل میں یہ خلابازوں کی کالونی کا کام انجام دے سکتی ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ سرنگ چاند کے مدار میں گھومتے جاپان کے سیلین نامی سیٹلائٹ نے دریافت کی ہیں ‘ جو کہ اپنے نک نیم ’ کاگویا‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اس سیٹلائٹ نے یہ تصاویر چاند کی میریس ہلز اسکائی لائٹ نامی پہاڑی علاقے میں لی ہیں‘ جو کہ ٹنل کے دہانے کی ہیں۔

جاپانی اسپیس ایجنسی کے ماہرین نے جب مذکورہ تصاویر اور ڈیٹا کا تجزیہ کیا تو ان کے سامنے حیرت انگیز نتائج آئے۔ انہیں یہاں کچھ مختلف ایکوپیٹرن ملے؛ آواز کی گونج کم ہورہی تھی اور پسِ منظر میں ایک اور گونج اٹھ رہی تھی جو کہ ایک بڑے کھوکھلے علاقے کی نشاندہی کررہی ہے۔

حالیہ تحقیق سے ثابت ہوا کہ چاند پر کسی شہر کے برابر لاوے کی سرنگ موجود ہے جو کہ مستقبل میں خلا بازوں کے لئے چاند کے سخت موسم کے سامنے ایک مستقل پناہ گاہ ثابت ہوسکتی ہے،‘ یہاں تک کہ اس میں ایک باقاعدہ کالونی بھی تعمیر کی جاسکتی ہے۔

مریخ پر جانے والے افراد میں ایک خوش قسمت پاکستانی متنخب*

چاند گاؤں: مریخ کی طرف سفر کا پہلا پڑاؤ*

جاپانی اسپیس ایجنسی کے ریسرچر جونچی ہارویاما کا کہنا ہے کہ اگر ہم یہاں خلائی بیس تعمیر کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے تو ہمیں یہ جانچنا ہوگا کہ لاوے کی یہ سرنگیں چاند کے کس کس علاقے میں ہیں اور کتنی بڑی ہیں؟۔

یاد رہےکہ انسان نے چاند پر پہلا قدم آج سے لگ بھگ اڑتالیس سال قبل رکھا تھا لیکن آج تک کوئی بھی خلائی مشن تین دن سے زیادہ وہاں نہیں ٹھہرسکا۔ چاند ایک خطرناک جگہ ہے جہاں کا درجہ حرارت مستقل تبدیل ہوتا ہے او رزمین کی نسبت نہ تو اس کی کوئی آب و ہوا ہے اور نہ ہی مقناطیسی فیلڈ جو کہ سورج کی تابکاری اور گرم شعاؤں سے بچانے کے لیے لازمی ہیں۔

ایسے ماحول میں خلائی سوٹ زیادہ عرصے تک چاند کی سختیوں سے نہیں بچا سکتا ہے‘ لیکن لاوے کی سرنگ ایسی جگہ ہے جو کہ ایسی مشکلات کا سامنا کرنے میں مدد کرسکتی ہے۔ جب لاوا بہنا بند ہوجاتا ہے اور آہستہ آہستہ ٹھنڈا شروع ہوتا ہے تو وہ ایک سخت سرنگ کی سی شکل اختیار کرلیتا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top