جمعرات, ستمبر 10, 2026
اشتہار

علوم کی بدنصیبی!

اشتہار

حیرت انگیز

تمہید
تمام صاحبِ جوہر اور کُل اہلِ کمال ہمیشہ سے ان نالائقوں اور غلط نما باکمالوں کے ہاتھوں سے نالاں ہیں، جو فلک کی سفلہ پروری یا قسمت کی یاوری سے ہوائے مراد کے بلون میں بیٹھے ہیں اور ترقیوں کے آسمان پر سیر کرتے پھرتے ہیں۔ اس معاملہ میں اہلِ علوم سے زیادہ کوئی واجب الرحم نہیں۔ صدیوں کے بعد تو کوئی صاحب صفت پیدا ہوتا ہے۔ پھر اگرچہ ہر شخص کے کام کی ترقی خاص و عام کی قدر دانی پر منحصر ہے لیکن بنیاد اس کی حکام یا اہل دول کی بدولت ہوتی ہے۔ اسی واسطے اس کی رونق بازار کی عمر بہت تھوڑی ہوتی ہے اور ان خرابیوں کا بیان کرنا حدِ قلم سے باہر ہے۔ اوّل تو اہلِ کمال ہمیشہ کم اور بے کمال انبوہ در انبوہ ہیں۔ ان کی بھیڑ بھاڑ ایسی خاک اڑاتی ہے کہ ان کے کمال پر خاک پڑ جاتی ہے۔ ناچار دل شکستہ ہو کر بیٹھ رہتے ہیں۔ جو ثابت قدم رہتے ہیں، ان کی بد نصیبی یہ کہ جن قدر دانوں پر مدارِ کار ہے کبھی کثرتِ کار سے، کبھی بے پروائی سے، غرض تھوڑے ہی دنوں میں وہ اپنے شوق کو ان لوگوں کے حوالے کر دیتے ہیں جو اس کام کے لائق نہیں۔

آغازِ مطلب
علوم و فنون نے دیکھا کہ مدت گزر گئی ہمارے مرید اور خدمت گزار فقط اپنی ارادتِ دلی سے انسان کے فائدوں کے لئے محنت کر رہے ہیں اور جس صدق دل سے، جاں فشانی اور عرق ریزی سے کرتے ہیں، اس کا صلہ کچھ بھی نہیں ملتا، بلکہ جن بے لیاقتوں کو جوہرِ کمال سے کچھ واسطہ نہیں اور انسان کی نفع رسانی کی بھی کچھ پروا نہیں رکھتے، وہ کامیابی اور عیش و عشرت کی بہاریں لوٹ رہے ہیں۔ سب کو اس بات کا بہت رنج ہوا اور سلطان آسمانی کے دربار میں عرضی کی۔ خلاصہ جس کا یہ کہ انصاف و عدالت کے بموجب تمام مریدانِ خدمت گزار کو بمقتضائے انصاف و عزت اور دولت کے انعام مرحمت ہونے واجب ہیں۔ دربار میں مشتری صدر اعلی تھا اور عطارد میر منشی۔

جب یہ عرضی پڑھی گئی تو جو جو خدمتیں اور ادائے خدمت میں مشقیں تھیں، سب جتائی اور دکھائی گئیں اور حق تلفیوں کا دعویٰ کیا گیا۔ معلوم ہوا کہ فی الحقیقت عالم خاک میں علوم و فنون کی کوششوں اور کار گزاریوں کا شکریہ کسی نے ادا نہیں کیا۔ اب وہ آئے دن کے دکھ بھرتے بھرتے ایسے دق ہو گئے ہیں کہ یقین ہے چند روز میں دنیا کو چھوڑ کر عالم بالا کی طرف چلے آئیں اور اگر وہ دنیا میں نہ رہے تو حضرت انسان جنہوں نے یہ شوکت و شان بنائی ہے، حیوانوں سے بدتر رہ جائیں گے اور جوان سے زیادہ وحشی ہوں گے، وہ انہیں پھاڑ کھائیں گے۔ اس کے فیصلے کے لئے عالم بالا میں کمیٹی ہوئی۔ قاعدہ ہے کہ جو اراکین دربار کا رنگ ہوتا ہے وہی کل دربار کا رنگ ہوتا ہے۔ چنانچہ سب کا اتفاق رائے اس بات پر ہوا کہ ضرور کسی کو بھیجنا چاہئے۔

ملکہ کوکب جمال کی ایک بیٹی تھی کہ باپ اس کاعالم خاکی سے تھا مگر اس کے نور جمال اور حسن کمال نے تمام عالم بالا کو روشن کر رکھا تھا، اور صداقت و حقیقت کے مدرسہ میں تعلیم پائی تھی۔ اسے حضور سے ملکہ علم افروز کا خطاب عطا ہوا اور عقل کا تاج سر پر رکھا گیا، جس میں آفتاب کی طرح فہم و ادراک کی شعائیں جگمگاتی تھیں، رفعت کا تخت پھولوں سے سجایا، اس پر ملکہ موصوفہ کو جلوہ گر کرکے اس طرف روانہ کیا۔ آسمان نے تارے اتارے اور زمین نے بجائے غبار کے نور اڑایا۔ اس نے عالم میں آکر باپ کی طرف سے وہ شوکت و شان اور لیاقت دکھائی جس سے تمام بے لیاقت تھرا گئے اور ماں کی طرف سے وہ روشنی پھیلائی گئی کہ خاک کا کرہ نور کی قندیل ہو گیا۔

دن رات دربار جاری تھا۔ علوم کے مسائل اور تصنیفات کے مقدمات پیش ہوتے تھے۔ استاد یعنی صداقت کی طرف سے متانت اور خاموشی مصاحبت میں آئی تھیں۔ چنانچہ علوم و فنون جن لوگوں کی سفارش کرتے تھے، وہ انہی کے ذریعہ سے آکر پیش ہوتے تھے۔ عالم بالا کے لوگ علم کے عاشق تھے۔ سب اس کی فرماں روائی دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ جلوس دربار کے لئے ہر طرح کے سامان بھیجے، اور بارگاہ شاہی نے عجب شان و شکوہ حاصل کی۔ جب دربار میں آکر بیٹھی تو عدل و انصاف کھوٹے کھرے کے پرکھنے کو کھڑے رہتے۔ امید سامنے ناچا کرتی۔ قدر دانی دست راست پر کھڑی رہتی اور سخاوت کے اشارہ کے بموجب ہر ایک کو انعام دیتی کہ قسمت کے ہاتھوں لوگوں تک پہنچ جاتے تھے۔

ایک دن ملکہ علم افروز اپنی رفعت کے تخت ہوادار پر سوار ہو کر ہوا کھانے نکلی۔ اتفاقاً ایک پہاڑ کی طرف گزر ہوا۔ کوہ مذکور پر جہالت ایسی چھائی ہوئی تھی کہ دامن کوہ سے لے کر چوٹی تک تمام دھواں دھار سے گھٹ رہا تھا۔ اس کے قدم سے سیاہی کے دھوئیں اڑ گئے اور تمام تاریکی برطرف ہوگئی۔ یہاں اگر چھاؤں بھی تھی تو نہ بارش کی سیرابی سے بلکہ گھٹاؤ کے پسینے سے سیل رہی تھی۔ اب اس نے اپنی سرسبزی کو ہرا کیا۔ کچھ پھول تھے تو روشنی بغیر ٹھٹھر رہے تھے۔ وہ بھی چمک کر رنگ نکال لائے۔ غرض ہر شئے کی طبیعت اپنی اصلیت پر آکر شگفتگی کے جوش سے کھل گئی اور خوشبوؤں سے عالم مہک گیا۔ روئے زمین پر بہار کا یہ عالم دیکھ کر سلطان آسمانی نے بھی حکم دیا کہ سامنے سے پردے اٹھا دو۔ عالم بالا کے پاک نہادوں نے گلدستے ہاتھوں میں لے لیے اور خوش ہو کر پھول اچھالنے لگے۔

جب اس پہاڑ کو گلوں سے گلزار اور شادابی سے نو بہار دیکھا تو علم تعمیر وہاں آیا۔ اپنے کمال سے ایک محل عالی شان تیار کیا۔ بہار نے کوسوں تک گلزار لگایا۔ طرح طرح کے اوزار کام میں آئے۔ سڑکیں نکالیں۔ اتار چڑھاؤ درست کئے۔ ریلیں جاری کیں۔ جابجا فرود گاہیں اور ان میں مہمان خانے اور آرام خانے بنائے۔ غرض عجائبات و غرائبات سے سجاکر ایسا طلسمات کر دیا کہ جس کے دیکھنے سے آنکھوں کو طراوت اور خیالات کو بلندی، وسعت حاصل ہو اور تصنیفات میں ایجاد اور مضمون آفرینی کے لئے سامان بہم پہنچیں۔ چنانچہ ملکہ نے یہیں سکونت اختیار کی۔ قسمت نے آکر انعاموں کا دروازہ کھول دیا۔ صداقت جانچتی تھی اور عدل بے رو و رعایت دیے جاتا تھا۔

یہ دروازہ رات دن کھلا رہتا تھا۔ امید دروازہ پر بیٹھی رہتی تھی اور جن کے لئے علوم و فنون سفارش کرتے تھے انہیں بلا لیتی تھی۔ تمام دربار کثرت خلائق سے بھرا رہتا تھا اور ہر چند اکثر ناکام بھی جاتے تھے۔ مگر شکایت کوئی نہ کر سکتا تھا کیونکہ خود ملکہ کی آنکھ کسی سے غافل نہ تھی۔ جو لوگ وہاں سے ناکام پھرتے تھے، ان کا نام نالائقوں کی فہرست میں درج ہو جاتا تھا۔ پھر وہ عالم شہرت سے خارج ہوکر یاگمنامی کے گوشہ میں بیٹھ جاتے تھے کہ کوئی انہیں پوچھتا نہ تھا، یا ہیچ و پوچ اور واہیات کاموں پرجھک پڑتے تھے۔ بعض ایسے بھی ہوتے تھے کہ محنت سے مدد لیتے تھے اور پھر اپنے نقص کی تکمیل میں کوشش کرتے تھے۔ اب اہل نظرغباری عینکیں لگا لیں کہ بے کمالوں کے دلوں کے غبار آندھی ہو کر اٹھتے ہیں، ان کے اقبال کا دور آیا ہے۔

ناکاموں میں اکثر نااہل ایسے بھی تھے کہ نہ اپنی ناکامی پر شرمندہ ہوتے تھے نہ شرمندگی کے گوشہ میں بیٹھتے تھے۔ چند روز کے بعد ان کی تعداد بہت بڑھ گئی۔ ایک دن سب نے محل کو گھیر لیا اور باغ میں آکر بستر ڈال دیے۔ ہر چند ملکہ مذکور کا جوہر افلاکی تھا، مگر باپ کی طرف سے پیوند خاکی تھا۔ اس لئے تجویزمیں کچھ نہ کچھ چوک بھی ہوتی تھی اور اگرچہ اس خطاکی اصلاح بھی بہت جلد ہوجاتی تھی مگر پھر بھی حریف جو تاک میں لگے ہوئے تھے، انہیں کہیں نہ کہیں موقع گرفت کا ہاتھ لگ ہی گیا۔ ان ناکاموں کی امید سے راہ تھی۔ اور بے حیائی ان کی بڑی خیر خواہ تھی۔ چنانچہ وہ ہمیشہ ان کو ملکہ کے دربار کی طرف دھکیلتی رہتی تھی کہ چلو اور دوبارہ دعویٰ پیش کرو۔ اگرچہ وہاں سے دھکے کھاتے تھے اور جب جاتے، نکالے جاتے تھے، پھر بھی امید کا یہ حال تھا کہ ان کی رفاقت چھوڑتی نہ تھی اور بے حیائی برابر زور لگائے جاتی تھی۔ غرض ان اندرونی راہوں کے ساتھ انہوں نے ایک اور رستہ نکالا۔ یعنی خیال کیا کہ یہ جمعیت ہماری جو امید کی حمایت اور بے حیائی کی عنایت سے روز افزوں ہے، اس کی کثرت ہمیں ضرور فتح یابی بخشے گی۔ پس جس طرح ہو سکے اپنی بھیڑ بھاڑ کو بڑھانا چاہئے۔ جب پروردگار کسی بندہ خاص کو عزت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اپنے بندوں کے کام اس کے سپرد کرتا ہے تو خواہ مخواہ کے خیر خواہ مشورہ دینے کو بہت پیدا ہوجاتے ہیں۔ مگر دیکھو ان کی باتوں میں آکر حقیقت اور واقعیت کو نہ بھول جانا چاہئے۔ خیال کرکے سنو یہ خیر خواہ کیسے کیسے ہوتے ہیں۔

ادھر بے لیاقت اہل فساد نے یہ سامان بہم پہنچائے، ادھر یہ قدرتی پیچ پڑا کہ ملکہ کو آسمان سے اترے ہوئے مدت ہوئی تھی۔ عالم خاک میں آکر نیت اس کی پستی کی طرف زیادہ ترمائل ہونے لگی اورعدل و انصاف کی نصیحتیں سب بھول گئی۔ یاتو صحبت اس کی علوم و فنون سے تھی یا غرور سے دوستی ہو گئی۔ آرام اور غفلت کو مصاحبت میں لیا اور رفتہ رفتہ غرور سے ایسی رسم وراہ بڑھی کہ اس سے شادی ہوکر دو لڑکیاں بھی پیدا ہو گئیں۔ ایک ان میں سے خوشامد اور دوسری خام خیالی۔ خوشامد نے فیاضی سے فیض تعلیم پایا تھا اور خام خیالی نے قسمت سے۔

غرور کے محل میں بی بی خودپسندی بھی تھیں، جن کا اس نے دودھ پیا تھا۔ دوسری دایہ خود رائی تھی، اس نے پالا تھا۔ ملکہ علم افروز نے یہ غضب کیا کہ ساری خو بو خاوند کی اختیار کرلی۔ رفتہ رفتہ خود رائی کی صلاح سے فیصلے اور خود پسندی کے دستخط سے احکام جاری ہونے لگے۔ صداقت نے جو سبق پڑھائے تھے، سب بھلا دیے اور عدل تو بے کار ہی ہو گیا۔ جب ان مصاحبوں کے اختیار اور لڑکیوں کی محبت زیادہ ہوئی تو علوم کا زور بالکل گھٹ گیا۔ اس کے رفیق اور قدر دان دربار سے بند ہو گئے۔ وہ بیچارے بجھے چراغوں کی طرح طاقوں میں پڑے رہتے۔ ملکہ کا منہ دیکھنا بھی نصیب نہ ہوتا۔ انجام اس کا یہ ہوا کہ علوم و فنون کے خدمت گزار محنتیں کر کے راتوں کو صبح اور صبحوں کو رات کرتے، برسوں کی دست کار یوں میں اپنے کمال ظاہر کرتے، مگر صلہ کے نام خاک بھی نہ پاتے۔ البتہ ان میں بھی جو چالاک ہوتے اور خام خیالی اور خوشامد کی وساطت سے وہاں تک جا پہنچتے ان کے لئے سب کچھ موجود تھا۔

جب ارکانِ سلطنت کی بے اعتدالیاں حد سے گزر جائیں تو اہلِ فساد کیوں نہ سر اٹھائیں۔ جب دربار کا رنگ اس طرح بے رنگ ہوا، نہ علوم کے قدر داں وہاں رہے، نہ فنون کے جوہر شناس، تو چرچے اس کے جا بجا پھیلے اور ان نالائقوں کو بھی خبریں پہنچیں جن کی علوم سفارش نہ کرتے۔ چنانچہ یہ خبریں سن سن کر ان کے ہاں بڑی خوشیاں ہوتی تھیں۔ وہ ملکہ کے دل سے دشمن بدخواہ تھے۔ ان باتوں کو اس کے زوال و دولت کے آثار سمجھ کر اپنی کامیابی کی تدبیروں میں زیادہ تر سرگرم ہوئے۔ ادھر ملکہ کے دربار کا یہ حال تھا کہ امید خام خیالی کے آنے سے خوش تھی۔ ادھر بے حیائی اپنے یاروں کو خوشامد کے سپرد کرتی جاتی تھی۔ دشمن مخفی جو شیطانوں کی طرح لپٹے ہوئے تھے، ملکہ کو ان کا خیال بھی نہ تھا۔ حضرت انسان کا قاعدہ ہے، جب اپنی اوج پرآتے ہیں، تو اصلیت کو بھول جاتے ہیں۔ اچھوں کو گھٹاتے ہیں، بروں کو بڑھاتے ہیں۔ ویسے ہی اپنے کئے کی سزا پاتے ہیں۔

علوم و فنون نے بہت سے دھکے کھا کر معلوم کیا کہ اب اس جہاں میں رہنا عزت نہیں بلکہ بے عزتی ہے۔ ملکہ کے محل سے نکلے، تمام دنیا میں پھرے، تکلیف و مصیبت کے سوا کچھ نہ پایا۔ اتفاقا ًایک سبزہ زار میں گزر ہوا۔ ایک بہتے چشمے کے کنارے پر کچھ چھوٹے چھوٹے مکان اور کئی جھونپڑیاں نظر آئیں۔ معلوم ہوا کہ آزادی کی آرام گاہ یہی ہے۔ وہ تحمل کی بیٹی تھی اور قناعت کی گود میں پلی تھی۔ چنانچہ سب سے الگ اس گوشہ عافیت میں پڑی رہتی تھی اور کنج عافیت اس کا نام رکھا تھا۔ یہ مقام علوم و فنون کو بھی گزران کے قابل معلوم ہوا۔ وہاں جاکر دیکھا تو دانائی، دور اندیشی، کفایت شعاری بھی موجود ہیں۔ علوم نے چند روز تک ان کی صحبت کو غنیمت سمجھا اور آزادی کے دامن کے نیچے اپنی عزت اور آسائش کو چھپا کر زندگی بسر کرنے لگے۔

اے اہل علم! اب وہی زمانہ ہے۔ عزت و آسائش چاہو تو اس طرح گزارہ کرو۔ کیوں آزاد! مجھے تو ان لوگوں پر رشک آتا ہے، جو شہرت کی ہوس یا انعاموں کی طمع پر خاک ڈال کر گوشہ عافیت میں بیٹھے ہیں اور سب بلاؤں سے محفوظ ہیں، نہ انعام سے خوش، نہ محرومی سے ناخوش، نہ تعریف کی تمنا، نہ عیب چینی کی پروا۔ اے خدا، دل آزاد دے اور حالت بے نیاز۔

(مشہور انشا پرداز، ادیب اور شاعر محمد حسین آزاد کی مشہور تمثیل سے اقتباسات جو ان کے فکری اور افسانوی مضامین پر مبنی کتاب نیرنگ خیال میں شامل ہے)

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں