کراچی (8 فروری 2026): سندھ ہائیکورٹ نے ایم نائن موٹر وے پر گرین بیلٹ اور سروس روڈ پر تعمیرات سے متعلق کیس میں فیصلہ محفوظ کر لیا۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق سندھ ہائیکورٹ کی آئینی بینچ نے ایم نائن موٹر وے پر گرین بیلٹ اور سروس روڈ پر تعمیرات سے متعلق مختلف درخواستوں کی سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
عدالت میں درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایم نائن موٹر وے کی گرین بیلٹ اور نالے پر تعمیرات کی جا رہی ہیں۔ موٹر وے سے متصل سروس روڈ پر بھی تعمیرات کی جا رہی ہیں۔ دکانوں اور سروس روڈ کے درمیان کیسے تعمیرات کی جا سکتی ہیں؟
سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کئی عشروں سے وہاں بسیں کھڑی ہوتی تھیں، کسی کو مسئلہ نہیں تھا۔ درخواست گزاروں کو اب رائٹ آف وے اور گرین بیلٹ یاد آ رہا ہے۔
سرکاری وکیل نے سوال اٹھایا کہ عدالت نے ایم نائن موٹر وے کے اطراف تجاوزات ختم کرنے کا حکم دیا تھا، کیا وہاں سے تجاوزات ختم کر دی ہیں؟ اگر کہیں موجود ہیں تو اسکور نشاندہی کرے۔
وکیل اسکور نے کہا کہ اسکور کی جانب سے کمرشل سرگرمیاں نہیں کی جا رہی ہیں بلکہ مسافروں کی سہولت کے لیے بس ٹرمینل اور آرام گاہ بنائی جا رہی ہیں۔ تعمیرات شروع ہوتی ہیں، تو عدالتی کارروائی شروع ہو جاتی ہے۔ ماسٹر پلان اتھارٹی کے پلان کے مطابق 670 فٹ این ایچ اے کا دائرہ اختیار ہے۔
وکیل این ایچ اے نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کی زمین این ایچ اے کی زمین کے بعد ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے جواباً کہا کہ این ایچ اے کا اسکور سے معاہدہ این ایچ اے ایکٹ کیخلاف ہے۔
عدالت نے کہا کہ آپ روڈ نہیں بنا رہے اور نہ ہی مرمت کر رہے ہیں، صرف کمرشل کام کر رہے ہیں۔ سکھر تک سفر کرنے میں 10 گھنٹے لگتے ہیں۔
وکیل اسکور نے کہا کہ موٹر وے کے اطراف نجی پٹرول پمپس اور ریسٹورنٹس چل رہے ہیں، کسی کو اعتراض نہیں۔ اسکور کوئی تعمیرات کرتا ہے تو سب کو اعتراض ہو جاتا ہے۔
جسٹس ذوالفقار علی سانگی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی آپ موٹر وے پر جائیں 2 ہزار گاڑیاں کھڑی ہوں گی۔ موٹر وے پر اتنے گڑھے ہیں کہ گاڑی نہیں چلا سکتے۔ مرکزی کام چھوڑ کر دکانیں بنانے میں لگے ہوئے ہیں، پہلے سڑک تو درست کریں بعد میں باقی کام کریں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


