The news is by your side.

Advertisement

مقدونیہ میں مظاہرین کا پارلیمنٹ پرحملہ

 

اسکوپیہ: مقدونیہ کے دارالحکومت اسکوپیہ میں البانوی اسپیکر کےانتخاب کےبعد مظاہرین نے پارلیمان پر حملہ کردیا جس میں کم از کم دس افراد زخمی ہوگئے۔

تفصیلات کےمطابق مقدونیہ کی پارلیمان پر مظاہرین کے حملے میں سوشل ڈیموکریٹ رہنما زوران زئیف سمیت دس افراد زخمی ہوگئے۔

زوران زئیف نے البانوی نسل سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کے ساتھ اتحاد قائم کیا تھا تاہم ان کی حکومت بنانے کی کوششوں کا راستہ صدر کی جانب سے روکا گیا ہے۔

مقدونیہ کی پارلیمنٹ میں حملے میں سابق وزیراعظم نکولا گروسکی کی سیاسی جماعت وی ایم آر او کےحامی ملوث ہیں اور وہ نئے انتخابات کا مطالبہ کررہےہیں۔

پارلیمان پرجنہوں نےدھاوا بولا وہ اتحادی جماعتوں کی جانب سے تلت شفیری کو اسپییکر منتخب کیےجانے پرنالاں تھے۔ان کو خدشہ ہےکہ البانویوں کو بہتردرجہ دینے سےمقدونبیہ کی یکجہتی کو خطرہ ہے۔

خیال رہےکہ پارلیمنٹ پردھاوا بولنےوالوں میں200 کے قریب نقاب پوش مظاہرین شامل تھے۔اس موقع پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے بے ہوش کرنے والی بندوق سے فائر کیے اور سیاست دانوں کو پالیمان کی عمارت سے نکالا۔

مقدونیہ میں قائم امریکی سفارت خانے نے اس واقعے پر ٹویٹر پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم شدید ترین الفاظ میں تشدد کی مذمت کرتے ہیں۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینس اسٹولن برگ نے بھی اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ وہ اس حملے پر حیرت زدہ ہیں۔

یورپی یونین کےکمشنر جوہانس ہاہن نے ٹویٹ کیا کہ پارلیمان میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے،جمہوریت قائم رہنی چاہیے۔


مقدونیہ کےانتخابات


واضح رہےکہ مقدونیہ کے سیاسی حالات دسمبر میں ہونے والے متنازع انتخابات کے بعد سے بحران کا شکار ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں