The news is by your side.

Advertisement

مدینہ منورہ کے کنویں اور تاریخی آثار

مدینہ منورہ اور قرب و جوار کے علاقے مقدس و بابرکت نشانیوں کے ساتھ ساتھ صدیوں پرانے اور عظیم الشان آثار کے لیے بھی مشہور ہیں۔

عرب قبائل کے لیے یہ علاقہ نخلستانوں اور چراگاہوں کی وجہ سے کشش کا باعث رہا جب کہ یہاں قیمتی پتھر بھی پائے جاتے ہیں۔ اسی لیے مدینہ شہر اور اطراف کے راستے عربوں کے لیے ہمیشہ سے اہمیت رکھتے تھے۔ یہاں قدیم آثار میں کنویں بھی شامل ہیں جن کی اس دور میں بہت اہمیت تھی۔ اسلام پھیلنے کے بعد ان میں سے بیش تر مسلمانوں کے ملکیت اور تصرف میں آئے اور آج بھی مقدس اور متبرک مانے جاتے ہیں۔

انہی میں سے ایک ‘‘العہن’’ ہے۔ کہتے ہیں اس کنویں کا پانی بے حد نمکین ہے اور یہ چٹان کو تراش کر بنایا گیا ہے جس کا پانی آج بھی جاری ہے۔ یہ تاریخی کنواں العوالی محلے میں واقع ہے اور مسجد قبا سے ایک کلومیٹر دور ہے۔

زمانۂ جاہلیت میں اس کنویں کا نام العسرۃ تھا۔ رسول اللہﷺ نے اسے الیسرۃ کا نام دیا اور یہی اب بئر العھن کے نام سے مشہور ہے۔ اسی طرح اریس، البصہ، بضاعہ، رومہ، الغرس اور بئر حاء تاریخی کنویں ہیں۔ محققین کے مطابق اس زمانے میں رسول اللہﷺ نے جس کنویں سے وضو فرمایا اور ان کا پانی پیا ان کی تعداد سات ہے۔

اسی طرح مختلف باغات کا بھی ذکر ملتا ہے جو رسول کریمﷺ کے حکم پر اس دور میں اسلام لانے والے صحابہ نے خرید کر مسلمانوں کی ضروریات اور فلاح کے لیے وقف کر دیے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں