راولپنڈی: مدرسے کے معلم نے ٹوپی گھر بھولنے پر 9 سالہ طالب علم پر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا تاہم پولیس نے معلم کو گرفتار کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق راولپنڈی میں تھانہ صدر بیرونی کے علاقے النور کالونی میں ایک مدرسے کے معلم نے کم سن طالب علم کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔
پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے۔
متاثرہ بچے کے ورثاء نے مقامی تھانے میں درخواست جمع کرائی، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ ان کے 9 سالہ بیٹے اسامہ پر معلم نے پلاسٹک اور لوہے کے پائپوں سے وحشیانہ تشدد کیا، بچے کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔
9 سالہ اسامہ نے اپنے بیان میں بتایا کہ تشدد کی وجہ محض ایک چھوٹی سی غلطی بنی ، وہ سر کی ٹوپی پھٹی ہونے کی وجہ سے گھر بھول آیا تھا۔
اس نے معلم قاری راشد ہارونی سے معافی مانگی اور بہت منت سماجت کی، لیکن معلم کا دل نہ پگھلا، معلم نے اسے یرغمال بنا کر مارا پیٹا اور وہاں موجود دیگر بچوں کو بھی اکثر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ورثاء کی درخواست اور بچے کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس نے چھاپہ مار کر ملزم قاری راشد ہارونی کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بچوں پر تشدد کے حوالے سے زیرو ٹالرینس پالیسی اپنائی جائے گی اور ملزم کو قانون کے مطابق سخت سزا دلوائی جائے گی۔


