The news is by your side.

Advertisement

سرکاری دفاتر سے گاندھی کی تصویریں اور مجسمے ہٹانے کا مطالبہ

میرٹھ : بھارتی تنظیم اکھل بھارت ہندو مہاسبھا نے سرکاری دفتروں میں لگی بابائے قوم مہاتما گاندھی کی تصویروں اور مجسموں کو فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کردیا، ان کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتی دہشت گردی کا ذمہ دار گاندھی ازم ہے۔

تفصیلات کے مطابق انتہا پسند ہندوؤں نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کو بھی اپنی شدت پسندی کا نشانہ بنانا شروع کردیا،
انتہا پسند ہندو گاندھی جی کو ان کے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے حق میں ہونے کی وجہ سے غدار تصور کرتے ہیں۔

بھارتی تنظیم اکھل بھارت ہندو مہاسبھا کے قومی نائب صدر اشوک شرما اور ریاستی ترجمان ابھیشیک اگروال نے میرٹھ میں پریس کانفرنس کے دوران بھارت کے صدر سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری دفتروں میں لگی مہاتما گاندھی کی تصویروں اور مجسموں کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔

عہدیداران کا مؤقف ہے کہ گاندھی ازم ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے متنازعہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور این آر سی کی حمایت کرتے ہوئے ہندوستان کو ہندو راشٹر قرار دینے کا بھی مطالبہ کیا۔

ہندو مہا سبھا کے عہدیداران کا کہنا تھا کہ بھارت میں ہونے والی “ملک مخالف سرگرمیاں “اور اس کے حمایتی لوگ صرف اور صرف کرم چند گاندھی کو ہی اپنا آئیڈیل مانتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شاہین باغ کے دھرنے میں شامل لوگ گاندھی کو اپنا آئیڈیل مانتے ہیں، اس کا ثبوت یہ ہے کہ یہ سبھی لوگ گاندھی کے پوسٹرز لگا کر تحریک چلاتے ہیں۔

مزید پڑھیں : بھارت میں گاندھی کا مجسمہ گرا دیا گیا

ہندو مہاسبھا کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ہندوستان کے دشمن گاندھی ازم کے حامی ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں