اسلام آباد (23 فروری 2026): وفاقی آئینی عدالت میں محمود اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی تقرری چیلنج کر دی گئی۔
بانی رکن پی ٹی آئی اکبر ایس بابر نے وفاقی آئینی عدالت میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ محمود خان اچکزئی کی تقرری کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے، اور اس کیس کے حتمی فیصلے تک نوٹیفکیشن معطل کیا جائے۔
درخواست گزار نے کہا اسپیکر کو پہلے جانچنا چاہیے تھا کہ اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی آزادانہ طور پر ہوئی یا نہیں، اسپیکر رول 39(3) کے تحت ارکان کے دستخطوں کی آزادانہ تصدیق کرنے میں ناکام رہے، ریکارڈ میں کوئی ثبوت نہیں کہ آزاد ارکان نے عامر ڈوگر کو نمائندگی کا باقاعدہ اختیار دیا ہو۔
درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ کیا کوئی سزا یافتہ اور نااہل شخص جیل سے بیٹھ کر پارلیمانی عمل کو کنٹرول کر سکتا ہے؟ انھوں نے کہا ماضی میں استعفوں کی تصدیق کے لیے اسپیکر ارکان کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے رہے ہیں لیکن اس بار اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے طریقہ کار نظر انداز کیا گیا۔
درخواست کے متن میں کہا گیا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کا عہدہ جوڈیشل کمیشن اور الیکشن کمیشن کی اہم تقرریوں میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، دستخطوں کی تصدیق کے بغیر جاری کردہ نوٹیفکیشن غلطی نہیں بلکہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔


