The news is by your side.

Advertisement

ام رباب کی جدوجہد رنگ لے آئی، ملزمان کی ضمانت مسترد

دادو: والد، چاچا اور دادا کے خون کے انصاف کیلئے قانونی جنگ لڑنے والی ام رباب کو پہلی فتح حاصل ہوگئی ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق دادو کی ماڈٖل کورٹ نے تہرے قتل کے مقدمے میں عبوری ضمانت پر فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم علی گوہر چانڈیو اور برہان چانڈیوکی ضمانت مسترد کردی ہے جبکہ ایم پی اے سردار چانڈیو کی ضمانت منظور کرلی گئی ہے۔

آج ہونے والی سماعت کے موقع پر درخواست گزار ام رباب چانڈیو اپنے وکلا کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں جبکہ پیپلز پارٹی کے ایم پی اے سردار چانڈیو بھی ماڈل کورٹ میں پیش ہوئے تاہم نامزد ملزم ایم پی اے برہان چانڈیوپیش نہ ہوئے۔

عبوری ضمانت کے فیصلے پر ام رباب چانڈیو نے کہا کہ یہ عدالت اور انصاف کی جیت کے ساتھ ساتھ ہم ہم سب کی جیت ہے، ہم پرامید ہیں کہ ان کو ہتھکڑیاں پہنائی جائیں گی۔

میڈیا سے گفتگو میں ام رباب چانڈیو نے بتایا کہ برہان چانڈیو کی ضمانت مسترد ہوئی وہ بھاگ گیا ہے، اپیل کروں گی کہ پولیس بھیجیں اور برہان چانڈیو کو گرفتار کرائیں، عدالت نے تو حکم کردیا ہے کہ ان کو گرفتار کریں۔

یہ بھی پڑھیں: ام رباب کیس میں پیپلزپارٹی کے 2 ارکان اسمبلی نامزد

واضح رہے کہ دادو کی تحصیل میہڑ میں مبینہ طور پر17جنوری 2018 کو فائرنگ کرکے ام رباب کے والد، دادا اور چچا کو قتل کردیا گیا تھا۔

ام رباب کا دعویٰ ہے کہ اُن کے والد، دادا اور چچا کو پاکستان پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی اسمبلی نے قتل کروایا۔

ام رباب اس وقت شہہ سرخیوں میں آئیں جب انہوں نے تہرے قتل کیس میں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج نہ ہونے پر ننگے پاؤں دادو کی مقامی عدالت آئیں تھی، واقعے پر اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے کیس کو 3 ماہ میں مکمل کرنے کا حکم صادر کیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں