ہفتہ, فروری 14, 2026
اشتہار

اصغرؔ گونڈوی کی شاعری اور تنویم کا عمل

اشتہار

حیرت انگیز

اصغرؔ گونڈوی نے اردو شاعری میں ایک بالکل نئی سی چیز چھیڑی جو تھی تو تصوف کے عنوان کی چیز، مگر جس کو روایتی تصوف سے کوئی نسبت نہ تھی۔ اصغرؔ نے انسانی زندگی کے مرکز اور اس کی سطح کو بدل دیا۔ ان کے اشعار پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہماری زمین نے اپنی جگہ چھوڑ دی ہے، اور اب فضائے بسیط میں اڑی چلی جا رہی ہے۔

اصغر نے اردو غزل میں نئی لطافتیں پیدا کیں اور اس میں فکر و تأمل کے لئے ایک بالکل نئی سمت نکالی، اس کے اسالیب نے بھی اردو غزل میں نئے باب کھولے، وہ ہم کو انگریزی کے مشہور شاعر ورڈسورتھ کی یاد دلاتے ہیں۔ ان کے کلام میں وہی ماورائی (Transcendent) کیفیت شروع سے آخر تک چھائی ہوئی ملتی ہے جس سے ورڈسورتھ کی شاعری ممتاز ہے۔ ان کی شاعری اردو میں ایک ایسا نیا میلان ہے جو قدیم اور جدید شعراء میں کسی کے وہاں نہیں ملتا۔ قدیم غزل کے اسالیب و صور انہوں نے استعمال ضرور کئے ہیں مگر ان سے انہوں نے بالکل نئے نمونے بنائے ہیں۔

اصغر ؔکے کلام میں انسانی دلچسپیاں سرے مفقود ہیں، انہوں نے انسانی زندگی پر ایک ماورائی نظر ڈالی ہے جس نے اس زندگی کو ایک سماجی چیز بنا کر رکھ دیا ہے، انسانی فطرت کا وہ اہم اور ہمہ گیر عنصر جس کو شعورِ جنسی کہتے ہیں، اصغر ؔکے وہاں نہیں ملتا اور اگر وہاں ملتا ہے تو اپنی اصلیت سے بیگانہ نظر آتا ہے، اس نے ان کی شاعری کو کچھ سونی سی بنا رکھا ہے۔ اصغر ؔکے اشعار پڑھتے وقت ہم ایسا محسوس کرتے ہیں جیسے ہم پر کوئی تنویم کا عمل کر رہا ہو، ہم پر غشی سی چھا رہی ہو اور ہر ٹھوس چیز ہمارے سامنے سے تحلیل ہوتی جا رہی ہو۔

(غزل اور عصرِ جدید از قلم مجنوں گورکھپوری)

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں