اتوار, مارچ 15, 2026
اشتہار

میرؔ اور ہم

اشتہار

حیرت انگیز

میر غزل گو شاعر تھے، اور غزل میں آج تک کوئی مرتب اور منضبط پیغام نہیں دیا جا سکا۔ غزل گو عام طور سے عشق و محبت کی زبان میں گفتگو کرتا ہے اور اگر کبھی زندگی کے دوسرے موضوع کا ذکر کرتا ہے تو بھی اس کے لہجے میں وہی سنجیدہ نرمی ہوتی ہے جو عشق کی زبان کی ایک نمایاں خصوصیت بتائی گئی ہے۔

اس لیے اگر کسی غزل گو شاعر کو اپنے زمانے سے کوئی شکایت یا بغاوت ہوتی تھی تو اس کا روپ ایسا بدلا ہوا ہوتا ہے کہ ہم صحیح طور پر اس کو جان پہچان نہیں سکتے، لیکن اگر کوئی رمز شناس اور نکتہ رس مطالعہ کرنے والا ہو تو اس کو ہر بڑے غزل گو شاعر کے کلام میں ایک مستقل فکری جھکاؤ یا جذباتی میلان ملے گا جس کا تعلق اس کے زمانے اور ماحول سے ہوگا۔

میر کے کلام کو اگر رک رک کر اور کافی غور سے پڑھا جائے تو اس کے اندر ہم کو ان کے زمانے کی ایک عناں گسیختہ فریاد کا احساس ہوتا ہے جو چیخ و پکار کی صورت نہیں اختیار کرنے پاتی۔ میر کے دور کے اور شعرا پر بہ استثناء سودا شاید یاس پرستی کا لفظ صادق آتا ہو۔ اس لیے کہ یہ شعراء بیشتر عشق اور روزگار کی اذیتوں سے عاجز ہو کر خود بے بسی کے عالم میں تڑپتے اور تلملاتے ہیں اور پڑھنے والے پر بھی کچھ ایسا ہی اثر پڑتا ہے۔ میر کے کلام میں تڑپنا تلملانا نہیں ہوتا۔ وہ خود داری اور سنجیدگی کے ساتھ بڑی سے بڑی مصیبت کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ پیدا کرتے ہیں۔

آلامِ عشق کا ذکر ہو یا آفاتِ روزگار کا، ان کے اشعار میں جلی یا خفی طور پر یہ اشارہ ضرور پایا جاتا ہے کہ نامساعد حالات و اسباب کا جان پر کھیل کر مقابلہ کرو۔ چاہے مخالف قوتوں کے ہاتھ مٹ ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ ان کا زمانہ وہ نہیں تھا جو ہمارا ہے۔ اس لیے وہ ’’قاتل‘‘ کے مقابلے میں تلوار سونت کر آنے اور بَزن بولنے کی تحریک تو نہیں کر سکتے تھے۔ ان کا انداز تو وہی ہو سکتا تھا جس کو آج کل کی زبان میں مقاومتِ مجہولی کہتے ہیں اور جو اب سے چند سال پہلے ہمارا زبردست حربہ تھا، لیکن میر کے کلام کو واقعی مجہولیت کی تعلیم کہنا درست نہ ہوگا۔ جو شخص خارجی اور شخصی آلام و مصائب کا مقابلہ ایک برتری کے تیور کے ساتھ کرے اور ایسا ہی کرنے کی ہم سب کو ترغیب دے، وہ مجہولیت محض کا قائل نہیں ہو سکتا۔
بہرحال میر خود بڑے جری انسان تھے اور ان کا کلام ہم کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ چاہے ہمارے سر سے خون کی موج ہی کیوں نہ گزر جائے، ہم کو’’جرأت رندانہ‘‘ نہیں بلکہ ’’جرأتِ مردانہ‘‘ کے ساتھ تمام صعوبتوں اور آزمائشوں کا مقابلہ ایک سورما کی طرح سے کرنا ہے، چاہے اس سلسلہ میں ہم کو شہید ہی کیوں نہ ہو جانا پڑے۔ میر نے اگر کبھی سر تسلیم خم بھی کیا ہے تو ایک فاتحانہ انداز کے ساتھ اور یہی فاتحانہ انداز اور پُر وقار تیور ہیں جو میر سے ہم کو ترکے میں ملے ہیں۔ جو لوگ میر کو شکست خوردہ اور یاس پرست سمجھتے ہیں وہ دھوکے میں ہیں۔ یاس پرستی یا یاس پرستی کی تعلیم میر کے مزاج سے کوئی واسطہ نہیں رکھتی۔ مٹتے مٹتے میر نے اپنے سر کو بلند رکھا۔ یہ اردو شاعری کی تاریخ کا معمولی واقعہ نہیں ہے۔ یہ ہمارے لیے سبق ہے۔ اس سے ہم یہ سیکھتے ہیں کہ پیچیدہ سے پیچیدہ اور خطرناک سے خطرناک حالات میں ہم اپنی اصلیت اور اپنے خیالات اور میلانات کے ناموس کو قائم رکھ سکتے ہیں۔ کچھ اشعار سنیے،

دور بیٹھا غبار میر اس سے
عشق بن یہ ادب نہیں آتا

یہ شعر وہ شخص نہیں لکھ سکتا جس نے معشوق کی غیر مشروط غلامی قبول کر لی ہو۔ تیور کہتے ہیں کہ شاعر عاشق کو معشوق سے برتر سمجھتا ہے اور عشق کو حسن کا پرستار مانتے ہوئے بھی ایک فائق اور زیادہ تربیت یافتہ قوت مانتا ہے۔ دوسرا شعر یہ

پاس ناموس عشق تھا ورنہ
کتنے آٓنسو پلک تک آئے تھے

پلک تک آتے ہوئے آنسوؤں کو گرنے نہ دینا اور آنکھوں میں پلٹا لے جانا معمولی کام نہیں ہے اس کے علاوہ ذرا ’’ناموس عشق‘‘ پر غور کیجیے گا۔ شاعر کو حسن کی اتنی پروا نہیں ہے۔ وہ عشق کے ناموس کو بہرحال قائم اور سلامت رکھنا چاہتا ہے اور لہجہ اور تیور بتا رہے ہیں کہ اس کو اپنے عشق کے ناموس پر زیادہ اعتماد ہے۔ ایک اور شعر سنیے۔

مرے سلیقہ سے میری نبھی محبت میں
تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا

ناکامیوں سے کام لینا ہر شخص کے دل گردہ کی بات نہیں ہے۔ اس کے لیے بڑی جری شخصیت کی ضرورت ہے۔ یہ شعر پڑھ کر ناممکن ہے کہ بزدل سے بزدل اپنے اندر ایک نئی جرأت نہ محسوس کرنے لگے۔ مگر اسی شعر میں جرأت اور اعتماد کے علاوہ جو سب سے زیادہ اہم رکن ہے وہ ’’سلیقہ‘‘ ہے۔ ناکامیوں اور نامرادیوں سے کام لینے اور تمام مزاحم اور موانع کے باوجود اپنے مرکز پر قائم رہنے کے لیے بڑے سلیقہ کی ضرورت ہے۔ جو پھوہڑ، خود غرض اور بزدل انسان کی قسمت میں نہیں۔ یہ سلیقہ جواں مردوں اور صرف جواں مردوں کا حصّہ ہے۔ شاید یہ شعر ہر صاحبِ ذوق کو یاد ہو۔

نامرادانہ زیست کرتا تھا
میر کا طور یاد ہے ہم کو

(اردو کے ممتاز نقّاد، ادیب و شاعر مجنوں گورکھپوری کے مضمون سے اقتباس)

+ posts

اہم ترین

مزید خبریں