The news is by your side.

Advertisement

محکمہ ماہی گیری میں بڑی کرپشن بے نقاب

کوئٹہ: نیب بلوچستان نے محکمہ ماہی گیری میں ہونے والے میگا کرپشن کا سراغ لگاتے ہوئے دو افسران کو گرفتار کرلیا ہے۔

ترجمان نیب بلوچستان کے مطابق ایک ارب روپےکی کرپشن کیس کے الزام میں ایک حاضر سروس ڈائریکٹر جنرل اور سابق سیکرٹری فشریز کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

نیب ترجمان کے مطابق ملزمان نے غیر متعلقہ کمپنیوں کو خلاف ضابطہ قیمتی ٹھیکےدیئے، کام کی عدم تکمیل کے باوجود بھاری ادائیگیاں کی گئیں۔ جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا

گذشتہ ماہ ریکوڈک کیس میں نیب راولپنڈی نے ایکشن لیتے ہوئے 2ملزمان کو گرفتار کیا تھا، ملزمان شیرخان اورمحمدفاروق کواسلام آباد سےگرفتارکیاگیا، راہداری ریمانڈکےبعدملزمان کونیب بلوچستان کےحوالے کیا جائے گا ،چیئرمین نیب نےدونوں ملزمان کےوارنٹ گرفتاری جاری کئےتھے۔

یاد رہے قومی احتساب بیورو نے ریکوڈک منصوبوں میں قومی خزانے کو نقصان پہنچانے پر بلوچستان حکومت کے سابق عہدیداران سمیت چھبیس افراد کے خلاف ریفرنس دائر کیا تھا، ریکارڈ کی چھان بین کےبعد ملزمان کیخلاف ناقابل تردید ثبوت جمع کئے گئے، ملزمان نے ذاتی مفاد کیلئے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا۔

یہ بھی پڑھیں:  چیئرمین نیب نے بلوچستان کے دورے میں سادگی کی مثال قائم کردی

ریفرنس کے مطابق ملزمان پر الزام ہے کہ 1993ء میں بلوچستان ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور بروکن ہلز پروپرائٹری نامی آسٹریلوی کمپنی کے مابین چاغی ہلز ایکسپلوریشن جوائنٹ وینچر معاہدے کے بعد انہوں نے آسٹریلوی کمپنی کو غیرقانونی فائدہ پہنچایا۔

ریفرنس میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ معاہدے کی شرائط کو مزید مستحکم کرنے کیلئے بلوچستان مائننگ کنسیشن قوانین میں غیرقانونی طریقے سے ترامیم کی گئیں، ذیلی معاہدات اور ٹیتھیان کاپر کے نام سے نئی کمپنی متعارف کرواکر اربوں روپے کے مالی فائدے حاصل کئے گئے۔

نیب کا کہنا تھا کہ تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ محکمہ مال بلوچستان کے افسران کی جانب سے زمین کی الاٹمنٹ اور دیگر امور میں بھی شدید بے قاعدگیاں کی گئیں، ٹیتھیان نامی کمپنی کی جانب سے سرکاری ملازمین کو اپنے فائدے کیلئے رشوت بھی دی گئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں