The news is by your side.

Advertisement

متحدہ دفاتر سے جناح پور کے نقشے ملے تھے، میجر ندیم، بریگیڈئیر آصف ہارون

کراچی: کراچی میں سال 1992ء کے آپریشن میں شامل آرمی کے ضلع سینٹرل کے انچارج میجر(ر) ندیم ڈار نے کہا ہے کہ متحدہ دفاتر سے جناح پور کے نقشے اورجھنڈے برآمد ہوئے تھے سینئرز نے یہ بات کیوں چھپائی نہیں‌ معلوم جب کہ بریگیڈئیر آصف ہارون نے نقشے ملنے اوردیکھنے کی تصدیق کی ہے۔

یہ بات میجر ندیم ڈار اور بریگیڈیئر آصف ہارون نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں میزبان کاشف عباسی سے ناورے سے آن لائن بات کرتے ہوئے کہی۔ پروگرام میں بریگیڈئیر(ر) آصف ہارون، پی ایس پی کے رہنما رضا ہارون اور تحریک انصاف کے رہنما فیصل وائوڈا بھی موجود تھے۔

میجر ندیم(ر) ڈار نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے لیاقت آباد میں واقع 89 سیکریٹریٹ الکرم اسکوائر پر چھاپے کے دوران اپنی آنکھوں سے جناح پور کے نقشے اور جھنڈے دیکھے،1994 میں سماعت کے دوران خود نقشے پیش کیے، اس وقت کے تمام سینئرز کو چیزیں حوالے کی تھیں، سینئرز اگر نقشوں کی برآمدگی کی تردید کرتا ہے تو میں کیا کہہ سکتا ہوں، بریگیڈئیر(ر) آصف ہارون نے بھی نقشے ملنے کی تصدیق کردی۔

میجر (ر) ندیم ڈار نے کہا کہ آرمی کار یکارڈ کبھی ضائع نہیں ہوتا، نقشے ملے تھے،94ء میں پٹیشن کی سماعت سے قبل نقشے پیش کیے لیکن بریگیڈئیر آصف ہارون کو نقشے نہیں دیے تھے۔

انہوں نے کہا کہ 92ء آپریشن میں ایک بھی شخص ماورائے عدالت قتل نہیں ہوا، ایم کیو ایم کا یہ کہنا غلط ہے کہ 92آپریشن میں 15 ہزار افراد مارے گئے، آپریشن میں صرف 700 افراد ہلاک ہوئے اور وہ بھی ایم کیو ایم اور حقیقی کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں مارے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم ایک دہشت گرد تنظیم ہے، اس کے پیچھے بھارتی خفیہ ادارے را کا ہاتھ پہلے بھی تھا اور اب بھی ہے، را کے لوگ آتے ہیں ان کے پاس،الکرم اسکوائر کے پہلے فلور پر ایم کیو ایم نے قبضہ کیا ہوا تھا اور بیس کیمپ بنایا ہوا تھا، الکرم اسکوائر کے پہلے فلور پر ایم کیو ایم کے بھارت سے تربیت یافتہ لوگ آئے ہوئے تھے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جان کو خطرات لاحق تھے اس لیے پاکستان چھوڑ گیا، فوج میں 94 تک چار سال ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن میں شامل رہا، 92 میں ڈسٹرکٹ سینٹرل کا انچارج تھا، آپریشن سے پہلے سعود ہاشمی کو گرفتارکیا،میرے ساتھ بہت ظلم ہوا، میرے گھر کو جلایا گیا، آرمی کو سب پتا ہے تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا، روتا ہوا سب اہل خانہ کے ساتھ پاکستان چھوڑ گیا۔

میجر ندیم نے کہا کہ فاروق ستار بھولے بنتےہیں، کبھی انہیں میرے سامنے لے کر آئیں کسی پروگرام میں، یہ لوگ قوم سے مذاق کرتے ہیں، خود ہی لوگوں کومارتے ہیں اور خود ہی دفناتے ہیں، شہدا کا قبرستان الطاف حسین نے خود ہی آباد کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی ہے کہ ایم کیو ایم اسلحہ کے زور پر ہائی جیک کرتی ہے، جب بھی کشمیر ڈے منایا گیا ایم کیو ایم نے کراچی میں آگ لگائی، اسکاٹ لینڈ یارڈ سے آج بھی رابطے میں ہوں، ثبوت یا گواہی کے لیے اگر پاکستان بلایا گیا تو ضرور حاضر ہوں گا۔

میجر ندیم ڈار کے بیان کی تصدیق کرتے ہوئے بریگیڈئیر(ر)آصف ہارون کا کہنا تھا کہ جناح پور کے نقشے ملے تھے اپنے ہاتھوں سے جی ایچ کیو ہینڈ اوور کیے، سماعت کے بعد نقشے عدالت سے واپس لیے، جناح پور کا نقشہ موجود تھا جس کی تصدیق بریگیڈئیر صولت مرزا نے کی، سینئرز نے اتنے عرصے خاموشی کیوں اختیار کی معلوم نہیں۔

عظیم احمد طارق ہی ایم کیو ایم بنانے والے ہیں، بریگیڈئیر آصف ہارون

بریگیڈئیر آصف ہارون نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم رہنما عظیم احمد طارق ایک بہترین آدمی تھے اور وہی ایم کیو ایم بنانے والے تھے، عظیم احمد طارق ہی ایم کیو ایم بنانے والے ہیں، الطاف حسین نے بیچ میں ٹانگ اڑائی ۔

ثبوت حکومت کو دیں تاکہ ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی ہو، رضا ہارون

پاک سرزمین پارٹی کے رہنما رضا ہارون نے کہا کہ اس وقت میڈیا نہیں تھا، صرف اخبارات تھے، اطلاعات بہت دیر سے آتی تھیں، میجر ندیم ڈار کی باتوں میں تضاد ہے، درخواست ہے کہ اگر ثبوت ہیں تو جمع کرائیں تاکہ ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن میں مدد مل سکے۔

انہوں نے کہا کہ جب ڈاکٹر عمران فاروق کا قتل ہوا اور تحقیقات منی لانڈرنگ کی طرف گئیں تو اصل کہانی وہاں سے شروع ہوئی، ابتدا طارق میر سے ہوئی، اسکاٹ لینڈ یارڈ نے اپنے کاغذات میں لکھا فنڈنگ کا لکھا، اسکاٹ لینڈ یارڈ کے پاس ان کے اعترافی بیانات موجود ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ قومی اسمبلی میں اہم رکن نے خود ہی جناح پور کے نقشے ملنے کی تردید کی تو اس وقت میجر کی یہ باتیں کیسے تسلیم کی جاسکتی ہیں۔

سب پاناما لیکس کا معاملہ دبانے کے لیے ہے، فیصل وائوڈا

فیصل وائوڈا نے کہا کہ یہ سب پاناما لیکس کا معاملہ دبانے کے لیے ملی بھگت کا نتیجہ ہے ، وفاق ن لیگ کے خلاف کارروائی میں سنجیدہ نہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں