اسلام آباد: پاور سیکٹر کے گردشی قرضے میں اضافے کی بڑی وجہ سامنے آگئی، صارفین نے گردشی قرض میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
تفصیلات کے مطابق نیپرا حکام نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی سماعت کے دوران انکشاف کیا کہ بجلی کمپنیوں کے نقصانات میں اضافہ اور وصولیوں میں کمی گردشی قرضے میں اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں۔
ممبر ٹیکنیکل نیپرا رفیق شیخ نے کہا کہ جب تک بجلی کمپنیوں کی وصولیاں بہتر نہیں ہوتیں اور نقصانات کم نہیں کیے جاتے، سرکلر ڈیٹ ختم نہیں ہوسکتا۔
نیپرا میں بجلی کمپنیوں کی جانب سے جولائی تا ستمبر 2025 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران صارفین نے گردشی قرض میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا بوجھ عوام پر منتقل نہ کیا جائے۔
بجلی صارفین نے مؤقف اختیار کیا کہ عوام پہلے ہی بجلی بلوں میں سرکلر ڈیٹ کے خاتمے کے لیے سرچارج ادا کر رہے ہیں، مگر قرض کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ رہا ہے۔
صارفین نے مزید کہا کہ حکومتی پیکج کے تحت 25 فیصد سیل بڑھانے کے بعد 2 روپے 40 پیسے فی یونٹ ریلیف دیا جا رہا ہے، لیکن یہ انکریمنٹل پیکج مؤثر ثابت نہیں ہوگا۔
پاور ڈویژن کے حکام کی سماعت میں غیر موجودگی پر نیپرا اتھارٹی نے برہمی کا اظہار کیا اور فیصلہ کیا کہ پاور ڈویژن کو اظہارِ ناراضگی کا خط لکھا جائے گا۔
سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔ نیپرا نے کہا کہ ڈسکوز کے اعداد و شمار کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد فیصلہ جاری کیا جائے گا۔


