کراچی : سال کی سب سے بڑی ڈکیتی کی واردات ہوئی ، جہاں فیڈرل بی ایریا میں کیش وین سے 30 کروڑ روپے لوٹ لیے گئے، واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیجز منظرِ عام پر آگئی۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا میں سیکیورٹی کمپنی کی کیش وین سے 30 کروڑ روپے کی خطیر رقم لوٹنے کی ایک سنسنی خیز اور منظم واردات پیش آئی۔
ابتدائی تحقیقات اور جائے وقوعہ سے ملنے والی سی سی ٹی وی فوٹیجز نے سیکیورٹی کے پورے نظام پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں، جس میں کمپنی کا اپنا ہی چیف کریو ملزمان کا سب سے بڑا سہولت کار نکلا۔
ایس ایس پی سینٹرل ڈاکٹر عمران خان نے بتایا کہ یہ کیش وین طارق روڈ سے ایک نجی بینک میں رقم پہنچانے کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ تاہم، جیسے ہی وین فیڈرل بی ایریا بلاک 16 میں رضوان پارک کے قریب پہنچی، تو عملہ وہاں "چائے پینے” کے بہانے رک گیا، جو کہ دراصل واردات کا حصہ تھا۔
وین کافی دیر تک وہاں کھڑی رہی، اس دوران عقب سے ایک کالے رنگ کا ڈالہ آیا، جس میں سے 4 مسلح ملزمان اتر کر پیدل کیش وین کے قریب پہنچے۔
واردات کی مختلف سی سی ٹی وی فوٹیجز سامنے آئی ہیں جنہوں نے سیکیورٹی گارڈز اور ملزمان کی ملی بھگت کو پوری طرح بے نقاب کر دیا، فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزمان کے پہنچنے سے پہلے ہی کیش وین کے گارڈ نے گاڑی کا عقبی دروازہ کھول رکھا تھا، ملزمان کے سوار ہوتے ہی کیش وین کالے ڈالے کے پیچھے چل پڑی۔
دوسری فوٹیج میں کیش وین اور ڈالے کو الطاف پکوان والی گلی کی طرف جاتے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ فوٹیج میں سیکیورٹی کمپنی کا چیف کریو واجد خود ملزمان کو لاکر کی چابیاں فراہم کر رہا ہے اور ملزمان سکون سے رقم کے تھیلے نکال رہے ہیں۔
ایس ایس پی سینٹرل کا کہنا ہے کہ ملزمان کیش وین کو الطاف پکوان والی گلی میں لے گئے، جہاں انہوں نے رقم کے تھیلے اپنی دوسری گاڑی (ڈالے) میں منتقل کیے اور موقع سے فرار ہو گئے اور واردات مکمل ہونے کے بعد سیکیورٹی کمپنی کا چیف کریو واجد بھی ملزمان کے ہمراہ ہی فرار ہو گیا۔
واردات کی اطلاع ملتے ہی جوہر آباد پولیس اور ایس ایس پی سینٹرل ڈاکٹر عمران خان نے بھاری نفری کے ساتھ جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا۔
ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد اور سی سی ٹی وی فوٹیجز واضح طور پر چیف کریو واجد کے ملوث ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں، اطراف کے علاقوں کے دیگر کیمروں کا ڈیٹا بھی حاصل کیا جا رہا ہے۔
پولیس نے ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ بہت جلد ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔


