کراچی میں دہشتگردی کا نیٹ ورک پکڑا گیا، حیدرآباد جیل پرحملے کا منصوبہ ناکام: آئی ایس پی آر -
The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں دہشتگردی کا نیٹ ورک پکڑا گیا، حیدرآباد جیل پرحملے کا منصوبہ ناکام: آئی ایس پی آر

کراچی: ڈائریکٹرجنرل آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی میں دہشت گردوں کا ایک بڑا نیٹ ورک پکڑ کر حیدرآباد جیل پرہونے والا ممکنہ حملہ ناکام بنادیا گیا ہے، تین دہشت گردوں کو میڈیا کے سامنے پیش بھی کیا گیا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن کامیابی سے جاری ہے تاہم ابھی اس میں مزید بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

کراچی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آئی ایس پی آر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ’ضرب عضب‘ 15 جون 2014 سے شروع ہوا جس میں فاٹا میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کی گئیں، افغان سرحد کے ساتھ دہشت گردوں کی چند پناہ گاہیں باقی ہیں جن کے خلاف کارروائی جاری ہے۔

کراچی میں جاری آپریشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ آپریشن سے قبل کراچی میں جرائم عروج پر پہنچے ہوئے تھے، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور اسٹریٹ کرائمز کی شرح بہت زیادہ تھی جن پر بڑی حد تک قابو پایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں اب تک 7 ہزار سے زائد آپریشن کیے گئے جن میں 12 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں تقریباً 6 ہزار افراد کو پولیس کے حوالے کیا گیا، جبکہ تقریباً 9 ہزار چھوٹے بڑے ہتھیار اور 4 لاکھ سے زائد گولیاں برآمد کی گئیں، آپریشن کے دوران القاعدہ برصغیر کے نائب امیر سمیت 94 خطرناک دہشت گردوں کو پکڑا گیا جن میں سے 26 کے سر کی قیمت مقرر تھی۔

لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائی کی جارہی ہے اور شہر میں القاعدہ کو مالی مدد فراہم کرنے والے 12 ملزمان گرفتار کرلیے گئے ہیں، جبکہ کالعدم لشکر جھنگوی کے 15 ایسے کارندوں کو پکڑا گیا جو دھماکا خیز مواد کے ماہر تھے۔

حیدرآباد جیل پرحملے کی منصوبہ بندی کرنے والے ملزمان

ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں دہشت گردی کے واقعات میں تین بڑے دہشت گرد گروپس ’القاعدہ برصغیر‘، کالعدم ’تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)‘ اور کالعدم ’لشکری جھنگوی‘ ملوث ہیں جبکہ دیگر چھوٹے گروپس آپس میں مل کردہشت گردی کی کوشش کر رہے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 97 دہشت گردوں پر مشتمل گروہ کراچی میں دہشت گردی کرتا رہا ہے، کراچی ایئر پورٹ حملہ، کامرہ ایئربیس، سکھر میں آئی ایس آئی کے دفتر پر حملے میں یہی گروہ ملوث ہے، چوہدری اسلم کو بھی ان ہی دہشت گردوں نے ہلاک کیا، جبکہاس گروپ کے مثنیٰ اور نعیم بخاری نامی دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کرتے تھے۔

ملزمان کے قبضے سے برآمد ہونے والا دھماکہ خیز مواد
ملزمان کے قبضے سے برآمد ہونے والے پولیس یونی فارم اوردیگرڈیوائسز

انہوں نے کہا کہ ان دہشت گردوں نے حیدرآباد جیل توڑنے کا منصوبہ بھی بنایا جسے ناکام بنادیا گیا، دہشت گردوں نے لطیف آباد نمبر 5 کے علاقے میں گھر کرائے پر لے کر پلاسٹک کنٹینرز کا کاروبار شروع کیا، دہشت گرد بارودی مواد سے بھری گاڑیوں کے ذریعے جیل کے دروازے پر دھماکے کرنا چاہتے تھے، ان کا مقصد 35 سے 40قیدیوں کو ہلاک اور دہشت گرد خالد احمد شیخ اور شہزاد احمد سمیت 100 سے زائد قیدیوں کو رہا کرانا تھا۔

انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اس حملےمیں جیل کا ایک اہلکاربھی ملوث تھا جس نےحملہ آوروں کی حملے کے وقت معاونت کرنا تھی تاہم اسے گرفتارکرلیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی آپریشن سے شہر میں ٹارگٹ کلنگ میں 69 فیصد، بھتہ خوری کے واقعات میں 85 فیصد اور اغوا برائے تاوان کے واقعات میں 90 فیصد تک کمی آئی ہے اور یہ آپریشن شہر میں امن کی مکمل بحالی تک جاری رہے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آرکا یہ بھی کہنا تھا کہ آپریشنِ ضرب عضب کو پوری دنیا میں سراہا جارہا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں