The news is by your side.

Advertisement

نشان حیدر کا اعزاز پانے والے میجر طفیل شہید کی برسی آج منائی جارہی ہے

افواج پاکستان کے بہادر جوانوں نے ملک کیلئے شجاعت کی بے نظیر مثالیں قائم کیں ہیں، سات اگست انیس سو اٹھاون کو جام شہادت نوش کرنے والے میجر طفیل محمد شہید کی برسی آج عقیدت واحترام سے منائی جارہی ہے۔

پاک فوج کے جوانوں نے جرت اور بہادری کی لاتعداد داستانیں رقم کیں، ایسی ہی ایک داستان رقم کرنے والے میجر طفیل محمد شہید نے 22جولائی1914 میں ہوشیار پور میں آنکھ کھولی، انہوں نے انیس سو تینتالیس میں پنجاب ریجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا اور 1947ء میں جب وہ میجر کے عہدے تک پہنچ چکے تھے، وہ اپنے پورے خاندان کے ہمراہ پاکستان آگئے اور یہاں فوج میں خدمات انجام دینے لگے۔

اگست 1958 کی ابتدا میں انہیں چند بھارتی دستوں کا صفایا کرنے کا مشن سونپا گیا جو کہ لکشمی پور میں مورچہ بند تھے، میجر طفیل محمد نے اپنی کارروائی کے لیے ایک منصوبہ بنایا اور 7اگست 1958ء کو دشمن کی چوکی کے عقب میں پہنچ کر فقط 15 گز کے فاصلے سے حملہ آور ہوئے۔

دشمن نے بھی جوابی کارروائی کی اور مشین گن سے فائرنگ شروع کردی۔ میجر طفیل چونکہ اپنی پلاٹون کی پہلی صف میں تھے اس لیے وہ گولیوں کی پہلی ہی بوچھاڑ سے زخمی ہوگئے تاہم وہ زخمی ہونے کے باوجود آگے بڑھتے رہے اور انہوں نے ایک دستی بم پھینک کر دشمن کی مشین گن کو ناکارہ بنا دیا، جلد ہی دشمن سے دست بدست مقابلہ شروع ہوگیا۔ یہ مقابلہ اس وقت تک جاری رہا جب تکٹڈی دل بھارتی فوج کو بھاگنے پر مجبور کردیا،  دشمن اپنے پیچھے چار لاشیں اور تین قیدی چھوڑ گیا، میجر طفیل محمد شہید نے گھمسان کی جنگ کے بعد اسی دن ملک کی حفاظت کرتے ہوئے جان دے کرشہادت کا درجہ حاصل کیا۔

میجر طفیل محمد شہید کی لازوال قربانی کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا۔

میجر طفیل محمد کو فاتح لکشمی پور بھی کہا جاتا ہے ۔ 5 نومبر 1959ء کو صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے کراچی میں ایوان صدر میں منعقد ہونے والے ایک خاص دربار میں میجر طفیل محمد کی صاحبزادی نسیم اختر کو یہ اعزاز عطا کیا۔ میجر طفیل محمد یہ اعزاز حاصل کرنے والے پاکستان کے دوسرے سپوت تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں