The news is by your side.

مکلی کانفرنس – عالمی ورثے کی حفاظت کس کی ذمہ داری ہے؟

یہ کسی جنگی میدان کا منظر تو نہیں لیکن جنگوں میں مارے جانے والے لاکھوں افراد کی قبروں پر مشتمل مکلی کا تاریخی ورثہ ہے،جو عالمی ورثے کی فہرست سے نکلتے نکلتے دوبارہ شامل ہوگیاہے۔گذشتہ ماہ سندھ کے وزیر ثقافت سردار شاہ نے جب یونیسکو کے تحت منعقدہ عالمی کنونشن کو جب یقین دلایا تھا کہ سندھ حکومت مکلی کے آثار قدیمہ کی حفاظت کے لے تمام تر اقدامات کرے گی۔عالمی برادری کو یقین دلانے کے لیے یہ ضروری تھا کہ مکلی کے ورثے کا مشاہدہ کیا جائے۔

اسی سلسلے میں ایک عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا اور سندھ کے محکمہ ثقافت کی جانب سے دو روزہ عالمی مکلی کانفرنس تو اختتام پذیر ہوچکی‘ کانفرنس میں غیر ملکی مندوبین نے شرکت بھی کی لیکن یہ کانفرنس اپنے پیچھے کچھ سوال بھی چھوڑ گئی ہے جن کے جوابات بہرحال سندھ حکومت کے پاس ہی ہیں۔سندھ کے سابقہ دارالخلافہ ٹھٹھہ کی پہاڑیوں پر موجود مکلی کا شہر خموشاں سندھ میں پندرہویں اور سولہویں صدی کی بادشاہتوں کے زندہ نقوش پر مشتمل ہے اور فن خطاطی سے تاریخی مقبروں پر نقش تاریخ کو پڑھنے کی کوشش کی جائےتو بادشاہوں اور حکمرانوں کے ساتھ ساتھ درویشوں،صوفیا،محب وطن سپاہیوں اور تاریخ کے غداروں کی قبریں بھی یہاں پر موجود ہیں جہاں حملہ آوروں کے نقش موجود ہیں وہاں پر مزاحمت کاروں اور سندھ کے وطن دوست حکمراں جام نظام الدین سموں کا بھی عالیشان مقبرہ موجود ہے۔سندھ پر حکمرانی کرنے والے ترخان، ارغون، مغل اور سماں حکمرانوں کے مختلف ادوار میں لگنے والی جنگوں میں مارے جانے والے لاکھوں گمنام سپاہیوں کی قبروں کی تاریخ منہدم تو نہیں گمنام ضرور ہے۔

پہلی عالمی کانفرنس کا آغاز ہی ڈھول اور شہنائی پر رقص کرنے والے فنکاروں کے استقبال سے ہوا۔ کانفرنس کا افتتاح وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کیا۔وزیر ثقافت سندھ سردار شاہ کے علاوہ سینٹر سسی پلیجو،صوبائی وزیر محمد علی ملکانی،حمید آخوند نے ابتداعی سیشن سے خطاب کیا۔ عالمی کانفرنس برطانیہ،امریکہ،جرمنی۔فرانس،اور دیگر ممالک کے ماہرین نے اپنے تحقیقی مقالہ جات کے ذریعے حکومت سندھ کو اپنی سفارشات سے آگاہ کیا وہیں مقامی ماہرین نے بھی مکلی کی حفاظت اور تاریخ کے حوالے سے اہم نقاط اٹھائے۔

وزیر ثقافت نے خود ہی بتا دیا کہ مکلی کے سولہ ایکڑ پر پھیلے ہوئے رقبے کے اندر مختلف سرکاری دفاتر اور با اثر لوگوں کے گھر تعمیرہو ئے جن کو منتقل کرنے کے لیے ان افراد کو متبادل جگہ فراہم کی جائے گی۔سردار شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ مکلی کو طویل ترین دیوار سے محفوظ کرنا چاہتے ہیں اور مکلی میوزیم قائم کرنا چاہتے ہیں۔وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کانفرنس کی تمام تر سفارشات پر عمل کرے گی اور سندھ کابینہ سے ان کی منظوری لی جائے گی۔

عالمی کانفرنس سے انڈیانا یونیورسٹی کی ڈاکٹر مارگریٹ ایس گریوز، برطانیہ کے اسکالر ڈاکٹر رتھ یونگ،پیرس کے ماہر آثارقدیمہ تھامس لورین، سمیت ۲۲ ماہرین نے اپنے مقالاجات اور ریسرچ پیپرز پڑھے۔ عالمی ماہرین نے مکلی کو عالمی ورثہ کی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں لگنے والی جنگوں،حملوں اور بادشاہوں کی طرز حکمرانی پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

کانفرنس کے دوران مکلی پر سووینئر شاپ قائم کردی گئی اور سیاحوں کے لئے شٹل سروس بھی شروع کردی گئی،لیکن یہ محض ابتدا ہے ۔پانچ سو سالہ تاریخ و تہذیب کی حفاظت کے لئے سندھ حکومت کو لاتعداد چیلنجوں کا سامنا ہے۔ڈاکٹر رفیق مغل،حمید آخوند،کراچی آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ،یاسمین لاری،علی جبران صدیقی،فاطمہ قریشی،داکٹر ولید زید،غلام محمد لاکھو،عبدالعلیم لاشاری،محمد شاہ بخاری،ڈاکٹر حمیرہ ناز اور دیگر نے کانفرنس کو اپنی اپنی تجاویز سے آگاہ کیا۔

کانفرنس کے دوران سماں حکمران جام تماچی اور غریب مچحیرن نوری کی عشقیہ داستان پر مشتمل ڈرامہ نوری جام تماچی بھی پیش کیا گیا اور دوسرے دن سندھ کے صوفیانہ فنکاروں نے صوفیانہ کلام گایا۔مکلی سندھ کی تاریخ اور تہذیب کے ساتھ پانچ سو سالہ طرز حکمرانی اور سیاسی نشیب و فراز کی روداد بھی ہےاور ایک اہم عالمی عالمی ورثہ بھی‘ جس کی حفاظت حکومت سمیت ہم سب پر فرض ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں