ملالہ یوسفزئی کا ٹوئٹر پر پہلا دن، منٹوں میں فالوورز کی تعداد لاکھوں تک جا پہنچی -
The news is by your side.

Advertisement

ملالہ یوسفزئی کا ٹوئٹر پر پہلا دن، منٹوں میں فالوورز کی تعداد لاکھوں تک جا پہنچی

لندن : نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی ہائی نے اپنی ہائی اسکول کی تعلیم مکمل ہونے کا جشن سماجی روابط کی مشہور ویب سائٹ ٹوئٹر پر اکاؤنٹ بناکر منایا ، جس کے بعد منٹوں میں فالوورز کی تعداد لاکھوں تک جا پہنچی۔

نوبیل انعام یافتہ ملالہ نے اسکول کی تعلیم مکمل ہوتے ہی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کا حصہ بن گئیں اور پہلے ہی دن فالوورز کی تعداد ایک لاکھ سات ہزار تک پہنچ گئیں، ملالہ نومبر 2012 میں مائیکرو بلاگنگ سائٹ میں شامل ہوئی تھیں لیکن اس کے بعد ٹویٹ نہیں کیا، اس اکاؤنٹ کی تمام سرگرمیوں ملالہ فاؤنڈ کے زیر انتظام ہوتی ہے۔

ملالہ یوسف زئی کا پہلے ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ یہ میرا اسکول کا آخری دن اور ٹوئٹر پر پہلا دن ہے ۔

ملالہ نے کہا کہ ہائی اسکول مکمل کرنا ان کے لیے ‘کھٹا میٹھا’ لمحہ ہے اور میں اپنے مستقبل کے بارے میں پرجوش ہوں ۔

ایک اور ٹوئٹ میں کہا کہ میں جانتی ہوں کہ دنیا بھر میں لاکھوں لڑکیاں جو اسکول نہیں جاتیں اور انکو کبھی اپنی تعلیم کو پورا کرنے کا موقع نہیں مل سکے گا۔

ملالہ کا ٹوئٹر پیغام میں مزید کہنا تھا کہ ہر لڑکی کی ایک منفرد کہانی ہوتی ہے، تعلیم اور مساوات کی جنگ میں لڑکیوں کا آواز بلند کرنا ہی ہمارا سب سے اہم ہتھیار ہے۔

ملالہ نے مزید لکھا کہ میں ٹوئٹر اور اس کے علاوہ بھی لڑکیوں کیلئے لڑتی رہوں گی، کیا آپ مجھے جوائن کریں گے۔

واضح رہے کہ ملالہ یوسف زئی کو اکتوبر 2012 میں طالبان نے اسکول وین کے اندر نشانہ بنا کر گولی ماری دی تھی ، جس کے بعد
انھیں علاج کیلئے برطانیہ منتقل کیا گیا تھا ، وہ اس کے بعد سے وہیں مقیم ہیں۔

ملالہ یوسف زئی جنوری 1997 میں پیدا ہوئی، وہ خواتین کی تعلیم کی سرگرم رکن ہے جبکہ کسی بھی شعبے میں نوبل انعام وصول کرنے والے سب سے کم سن فرد ہونے کا اعزاز حاصل ہے، ملالہ کی وجہ شہرت اپنے آبائی علاقے سوات اور خیبر پختونخواہ میں انسانی حقوق، تعلیم اور حقوق نسواں کے حق میں کام کرنا ہے، جب مقامی طالبان کے لڑکیوں کو اسکول جانے سے روک دیا تھا۔

ملالہ نے صرف 12 سال کی عمر میں “گل مکئی” کے قلمی نام سے بی بی سی کے لئے ایک بلاگ لکھا، جس میں اس نے طالبان کی طرف سے وادی پر قبضے کے خلاف لکھا تھا اور اپنی رائے دی تھی کہ علاقے میں لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دی جانی چاہیئے۔

اکتوبر 2014 کو ملالہ کو بچوں اور کم عمر افراد کی آزادی اور تمام بچوں کو تعلیم کے حق کے بارے جدوجہد کرنے پر نوبل امن انعام دیا گیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں