The news is by your side.

Advertisement

ملالہ یوسف زئی برطانیہ روانہ

اسلام آباد : نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی اہل خانہ کے ہمراہ برطانیہ روانہ ہوگئیں۔

تفصلات کے مطابق نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی چار روزہ دورے کے بعد غیر ملکی ایئرلائن کے ذریعے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ برطانیہ روانہ ہوگئیں، وہ براستہ دوحہ برطانیہ جائیں گی۔

اس موقع پر راولپنڈی کے بے نظیر انٹر نیشنل ایئر پورٹ پرسیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

یاد رہے کہ 29 مارچ کو نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی 6 سال بعد اپنے والدین کے ہمراہ چار روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں تھیں، پاکستان میں قیام کے دوران ملالہ نے وزیراعظم سمیت اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں اور کئی تقریبات میں شرکت بھی کی۔

ملالہ نے اپنے آبائی علاقے سوات اور اپنے اسکول کا بھی دورہ کیا، اپنے آبائی گھر پہنچیں تو آبدیدہ ہوگئیں تھیں، اس دوران انھوں نے اہلخانہ کے ساتھ خوبصورت لمحوں کی یادیں تازہ کیں اور گھر میں تصویریں کھنچوائیں۔


مزید پڑھیں : سوات جنت کاٹکڑا ہے، یہاں پہنچ کرمیری خوشی کی کوئی انتہانہیں،ملالہ یوسف زئی


نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے سوات میں کیڈٹ کالج کا دورہ بھی کیا، کیڈٹ کالج میں بچوں سے بات چیت کرتے ہوئے ملالہ کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز کے قربانیوں کے باعث سوات میں امن قائم ہوا، تعلیم مکمل ہو نے کے بعد سوات واپس آؤں گی۔

ملالہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ سوات جنت کاٹکڑاہے، یہاں پہنچ کرمیری خوشی کی کوئی انتہانہیں، میرے لیے اس سےزیادہ خوشی کی بات کوئی نہیں کہ اپنےگھرآئی ہوں، میں اپنےاسکول بھی گئی اوراس جگہ بھی گئی جہاں مجھ پرحملہ ہواتھا، خوشی ہےاب سب کچھ بدل گیا ہے اور سوات میں خوف کاراج ختم ہوگیا ہے۔

واضح رہے 2012 میں مینگورہ میں ملالہ یوسف زئی پر اسکول سے گھر جاتے ہوئے طالبان نے حملہ کردیا تھا، جس میں وہ شدید زخمی ہوئی تھیں، ابتدائی طورپر ملالہ کو پاکستان میں ہی طبی امداد دی گئی تاہم بعد میں انہیں برطانیہ کے اسپتال میں منتقل کردیا گیا تھا۔

امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے کے علاوہ متعدد ایوارڈ حاصل کرنے والی 20 سالہ ملالہ اس وقت برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہیں۔

ملالہ یوسف زئی 3 سال تک دنیا کی بااثرترین شخصیات کی فہرست میں شامل رہیں جبکہ ان کو کینیڈا کی اعزازی شہریت بھی دی گئی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں