site
stats
پاکستان

ملالہ یوسف زئی ’ڈیورنڈ لائن کاقیدی‘ پڑھیں گی

نوبل ایوارڈ یافتہ پاکستانی نژاد سماجی رہنما ملالہ یوسف زئی نے معروف صحافی فیض اللہ خان کی افغانستان میں گزرے دنوں کی آپ بیتیوں پر مشتمل کتاب میں دلچسپی کا اظہارکردیا۔

تفصیلات کے مطابق ملالہ یوسف زئی کے والد ضیا الدین یوسف زئی نے اپنے ٹویٹراکاؤںٹ سے ایک تصویرشیئرکی ہے اور انہوں نے اے آروائی نیوز کے ’وارکارسپانڈنٹ‘ فیض اللہ خان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ملالہ یوسف زئی اوران کے والد فیض اللہ خان کی کتاب ’ڈیورنڈ لائن کا قیدی‘ ہاتھوں میں تھام رکھی ہے۔ ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’شکریہ فیض اللہ خان اپنی ناقابلِ یقین داستان پر مبنی کتاب بھیجنے کے لئے ‘ ہمیشہ خوش رہیں‘‘۔

فیض اللہ خان کی کتاب ڈیورنڈ لائن کا قیدی ان کے افغانستان کی جیل میں گزارے دنوں کی یادداشتوں پر مشتمل ہے جب وہ غلطی سے سرحد عبور کرکے افغانستان میں داخل ہوگئے تھے۔

فیض اللہ خان کی رہائی کی درخواست


یاد رہے کہ فیض اللہ خان کی رہائی کے سلسلے میں ملالہ  یوسف زئی اور ان کے والد ضیا الدین یوسف زئی نے بھی اپنا کردارادا کیا تھااوراس سلسلے میں اس وقت کے افغان صدر حامد کرزئی کو ٹیلی فون کرکے فیض اللہ کی رہائی کی درخواست کی تھی۔

 فیض اللہ نے اس کتاب میں ملالہ یوسف زئی پر ہونے والے حملے سے متعلق کچھ ایسے حقائق اس کتاب میں آشکار کیے ہیں جو اس سے قبل کہیں بھی ریکارڈ کا حصہ نہیں تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ تحریک طالبان کے کمانڈر سے ہونے والی ملاقات میں پہلی بارطالبان ذرائع سے باضابطہ طور پراس بات کی تصدیق ہوئی تھی کہ ملالہ پر حملے میں ملا فضل اللہ کا گروہ ملوث ہے۔

فیض اللہ خان کی گرفتاری


فیض اللہ خان اپریل2014 میں صحافتی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے پاک افغان سرحدعبور کرکے افغانستان چلے گئے تھے جہاں انہیں افغان انٹیلی جنس نے گرفتارکرلیا تھا۔ افغانستان کے مشرقی صوبے ننگر ہار کی عدالت نے فیض اللہ کو بغیردستاویزات افغانستان آنے پر چار سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم اے آروائی نیوز‘ حکومتِ پاکستان‘ صحافتی تنظیموں اورانسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی مشترکہ کاوشوں کے سبب ان کی رہائی عمل میں آئی۔ ڈیورنڈ لائن کا قیدی اسی پر ابتلا دور کی یادداشتوں پر مبنی تحریر ہے۔


ڈیورنڈ لائن کا قیدی – قید سے رہائی تک


 یہ کتاب 32 ابواب میں منقسم ہے اور اس کے صفحات کی کل تعداد 227 ہے۔ کتاب کی ابتدا میں عامر ہاشم خاکوانی نےا ظہارِ خیال کیا ہے جبکہ اے ایچ خانزادہ نے اظہارِ یکجہتی کے عنوان سے مضمون تحریر کیا ہے۔

کتاب کے مطالعے کے دوران یہ بات بھی ملحوظِ خاطر رکھنا بے حد ضروری ہے کہ یہ آپ بیتی تاریخ کے ایک ایسے دھارے سےمنسلک ہےکہ جہاں یہ آپ بیتی سے بڑھ کر ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت اختیار کرلیتی ہے اور جب بھی افغانستان میں غیر ملکی قیدیوں کی تاریخ رقم کی جائے گی تو یہ کتاب بطور حوالہ کام آئے گی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top