ملالہ کا آکسفورڈ میں پہلا دنMalala Yousafzai attends first lectures
The news is by your side.

Advertisement

ملالہ کا آکسفورڈ میں پہلا دن

لندن : نوبل انعام یافتہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں اپنا پہلا لیکچر اٹینڈ کیا، انکا کہنا تھا کہ 5 سال قبل آج ہی کے دن مجھے گولی کا نشانہ بنایا گیا۔

تفصیلات کے مطابق نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں اپنی تعلیم کا آغاز کردیا، ملالہ یہاں سیاست، فلسفہ اور معاشیات کے مضامین پڑھیں گی

ملالہ یوسف زئی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر آکسفورڈ یونیورسٹی میں گزارے پہلے دن کی ایک تصویر اپنی کتابوں اور لیپ ٹاپ کے ساتھ شیئر کی اور پیغام میں لکھا کہ آج سے 5 سال قبل لڑکیوں کی تعلیم کیلئے آواز بلند کرنے پر مجھے گولی ماری گئی تھی اور آج ہی میں نے آکسفورڈ میں اپنا پہلا لیکچر لیا۔

اس موقع پر ٹوئٹر پر ملالہ کے بھائی نے اپنی بہن کیلئے نیک خواہش کا اظہار کیا اور کہ مجھے آپ پر فخر ہیں اور ساتھ ساتھ ٹوئٹر پر چھیڑ چھاڑ شروع کردی۔

خشال یوسف زئی نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ میں جانتا ہوں آپ کو میری کمی محسوس ہوگی لیکن میں بھی دو سالوں میں آکسفورڈ آجاؤں گا۔

جس پر ملالہ نے جواب دیا کہ دو سال بعد میں اپنا یونیورسٹی تبدیل کرلوں گی، جس پر بھائی نے کہا کہ مجھے وہاں آنا ہی نہیں ہے۔


مزید پڑھیں : نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی اب آکسفورڈ میں تعلیم حاصل کریں گی


خیال رہے کہ اوکسفورڈ یونیورسٹی جنوبی ایشیا میں خاصی معروف ہے، سابق پاکستانی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو، ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو، کرکٹر اور سیاستدان عمران خان نے یہی سے تعلیم حاصل کی۔

واضح رہے کہ ملالہ یوسف زئی کو اکتوبر 2012 میں طالبان نے اسکول وین کے اندر نشانہ بنا کر گولی ماری دی تھی ، جس کے بعد انھیں علاج کیلئے برطانیہ منتقل کیا گیا تھا ، وہ اس کے بعد سے وہیں مقیم ہیں اور تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔

اکتوبر 2014 کو ملالہ کو بچوں اور کم عمر افراد کی آزادی اور تمام بچوں کو تعلیم کے حق کے بارے جدوجہد کرنے پر نوبل امن انعام دیا گیا تھا۔

نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے جولائی میں اپنی ہائی اسکول کی تعلیم مکمل ہونے کا جشن سماجی روابط کی مشہور ویب سائٹ ٹوئٹر پر اکاؤنٹ بناکر منایا تھا، جس کے بعد منٹوں میں فالوورز کی تعداد لاکھوں تک جا پہنچی تھی۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں