لندن (10 فروری 2026): آکسفورڈ یونیورسٹی کے لیڈی مارگریٹ ہال میں ملالہ یوسفزئی کی تصویر آویزاں کر دی گئی۔
نوبل انعام یافتہ پاکستانی ملالہ یوسفزئی نے ایک اور پروقار اعزاز حاصل کر لیا ہے، آکسفورڈ یونیورسٹی میں بینظیر بھٹو کے بعد ملالہ یوسفزئی کی تصویر بھی آویزاں کر دی گئی۔
ملالہ کی تصویر لیڈی مارگریٹ ہال میں لگائے جانے کے حوالے سے خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ طالبان لڑکیوں اور خواتین کو ان کے حقوق سے محروم کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ طالبان کا لڑکیوں کو تعلیم کے حصول سے روکنا اسلام کے پیغام کے بھی خلاف ہے، تمام ممالک انسانی حقوق کی بنیاد پر آگے آئیں اور طالبان پر دباؤ ڈالیں، تمام ممالک کو طالبان کے ساتھ معمول کے تعلقات نہیں رکھنے چاہئیں۔
یاد رہے کہ ملالہ یوسف زئی نے ایل ایم ایچ ہی سے فلسفہ، سیاست اور معیشت میں تعلیم حاصل کی اور 2020 میں گریجویشن کی۔ وہ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے عالمی سطح پر معروف کارکن ہیں۔ 2014 میں انھیں نوبل امن انعام سے نوازا گیا تھا اور یہ اعزاز حاصل کرنے والی وہ سب سے کم عمر شخصیت بنیں، جس کے کام کا مقصد لڑکیوں کے حقِ تعلیم کو فروغ دینا تھا۔
ملالہ کو 2024 میں ایل ایم ایچ (لیڈی مارگریٹ ہال) کی آنرری فیلو بھی منتخب کیا گیا تھا، وہ آکسفورڈ پاکستان پروگرام کے مشاورتی ادارے کی رکن بھی ہیں، جو آکسفورڈ اور پاکستان کے درمیان علمی روابط کو فروغ دیتا ہے اور پاکستانی اور برطانوی پاکستانی طلبہ کو یونیورسٹی آف آکسفورڈ میں تعلیم کے لیے اسکالرشپ فراہم کرتا ہے۔
لندن سے تعلق رکھنے والی پورٹریٹ پینٹر ازابیلا واٹلنگ نے اس موقع پر کہا ’’’’ملالہ کا پورٹریٹ بنانا میرے لیے ایک بہت بڑا اعزاز تھا، تصویر میں میں نے ان کی طاقت اور وقار کو پیش کرنے کی کوشش کی، اس مشہور شخصیت کے چہرے کو تصویر میں اتارنا غیر معمولی طور پر چیلنجنگ ثابت ہوا۔‘‘
ملالہ یوسفزئی نے کہا ’’میں ایل ایم ایچ کی شکر گزار ہوں کہ انھوں نے یہ پورٹریٹ تیار کروایا، میں یہ اعزاز اس امید کے ساتھ قبول کرتی ہوں کہ یہ بہت سے دیگر لوگوں کے لیے دروازے کھولنے میں مددگار ثابت ہو۔ سب سے بڑھ کر میں امید کرتی ہوں کہ یہ یاد دہانی بنے کہ وادئ سوات کی ایک لڑکی یہاں اپنی جگہ رکھتی ہے، اور اگلی لڑکی، چاہے پاکستان کے کسی گاؤں سے ہو، افغانستان سے یا کہیں بھی، اس کی بھی یہاں اپنی جگہ ہو۔‘‘
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں




