site
stats
عالمی خبریں

ملالہ یوسف زئی کیلئے اقوام متحدہ کا بڑا اعزاز

نیویارک : اقوام متحدہ نے نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کو ”میسنجر آف پیس “  کا اعزاز دینے کا اعلان کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے پاکستان کی نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کو فروغ امن کے لیے اقوام متحدہ کی پیامبر منتخب کرلیا ہے ۔

malalal12

اقوام متحدہ کے ترجمان نے جمعہ کو اعلان کیا کہ ملالہ یوسف زئی نے دنیا بھر میں تمام لڑکیوں کو اسکول جانے کی ضرورت پر توجہ مرکوز کرائی۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارز میں منعقدہ ایک تقریب میں 19 سالہ ملالہ یوسف زئی کو ”فروغِ امن کیلئے پیغامبر“ کی ذمہ داری دی جائے گی، یہ تقریب پیر کو ٹرسٹی شپ کونسل چیمبر میں منعقد ہوگی۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے کہا ملالہ یوسف زئی نے سنگین خطرے کے باوجود خواتین ، لڑکیوں اور تمام لوگوں کے حقوق کیلئے غیر متزلزل عزم کا اظہار کیا، وہ پیر کے روز سے اپنا عہدہ سنبھالیں گی اور اپنے نئے کردار میں دنیا بھر میں لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ میں مدد کریں گی۔

m2

خیال رہے کہ ملالہ یوسف زئی ’فروغِ امن کی پیغامبر‘ کا عہدہ سنبھالنے والی اب تک کی سب سے کم عمر فرد ہیں جبکہ امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے میں بھی وہ سب سے کم عمر ہیں۔

m22

ملالہ کے علاوہ اداکار مائیکل ڈگلس اور لیونارڈو ڈی کیپریو، پرامے ٹولجسٹ جین گڈل اور موسیقاروں ڈینیل برینبوم اور چینی پیانو نواز لینگ لینگ امن کے فروغ کیلئے سفیر نامزد ہوچکے ہیں۔


مزید پڑھیں : کینیڈا کا ملالہ یوسفزئی کو اعزازی شہریت دینے کا اعلان


یاد رہے اس سے قبل کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نےملالہ یوسف زئی کوکینیڈا کی اعزازی شہریت دینےکا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ لالہ نےحملہ کرنےوالوں کوجرأت مندانہ جواب دیا،  ملالہ کواعزازی شہریت دینا کینیڈا کے لیے باعث فخرہے۔

واضح  رہے کہ نو اکتوبر 2012 کو دہشتگردوں نے اسکول وین میں بیٹھی ملالہ پر قاتلانہ حملہ کیا تھا، حملے میں ملالہ یوسف زئی کو سر پر ایک گولی لگی تھی، جس کے بعد ملالہ کو علاج کیلئے برطانیہ منتقل کیا گیا تھا۔

ملالہ یوسف زئی کو سال 2014 میں بچوں کی تعلیم کے لئے جدوجہد کرنے والی پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی اور چائلڈ لیبر کے خلاف جنگ کرنے والے بھارتی سماجی کارکن کیلاش ستیارتھی کو مشترکہ طورپر امن کے نوبل ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top