تازہ ترین

ڈریپ نے امراض چشم میں ایواسٹین انجیکشن کا استعمال غیر قانونی قرار دے دیا

اسلام آباد: ڈریپ نے امراض چشم میں ایواسٹین انجیکشن...

چیئرمین پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا حکم

اسلام آباد : اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر...

خاور مانیکا کو گرفتار کرلیا گیا

لاہور : سرکاری رقبہ پر ناجائز تعمیرات کے الزام...

کرونا وائرس کے علاج کے لیے ملیریا کی دوا کا استعمال: امریکی ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

دنیا بھر میں کرونا وائرس کے علاج کے لیے ملیریا کی دوائیں استعمال کی جارہی ہیں تاہم حال ہی میں امریکی ماہرین نے اس کے ممکنہ خطرات سے آگاہ کردیا۔

امریکی ماہرین امراض قلب کا کہنا ہے کہ کووڈ 19 کے مریضوں کو اینٹی ملیریا دواؤں کے استعمال سے دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا کے بعض مریضوں کو ہائیڈرو کسی کلورو کین اور اینٹی بائیوٹک ایزیتھرو مسین استعمال کروائی جارہی ہے جس سے دل کی دھڑکن غیر معمولی حد تک خطرناک سطح تک پہنچنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

یونیورسٹی آف اوریگن ہیلتھ اینڈ سائنسز (او ایچ ایس یو) اور انڈیانا یونیورسٹی کے محققین نے تجویز پیش کی ہے کہ کووڈ 19 کے مریضوں کو ملیریا اینٹی بائیوٹکس کے امتزاج کے ساتھ علاج کرنے والے ڈاکٹروں کو ان مریضوں کے دل کے نچلے حصے میں غیر معمولی دھڑکنوں پر بھی نظر رکھنی چاہیئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ علاج کے دوران دل کا نچلا حصہ تیزی اور بے قاعدگی سے دھڑکتا ہے اور اس سے دل کا دورہ پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکن کالج آف کارڈیالوجی کے جریدے کارڈیالوجی میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں محققین نے سینکڑوں ایسی دوائیں بتائی ہیں جن سے دل کے دورے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ دونوں دواؤں کو ایک ساتھ ایسے مریضوں کے علاج میں استعمال کرنا جن کی حالت پہلے سے تشویشناک ہو، ان میں دورہ قلب کا خطرہ کئی گنا بڑھا سکتی ہے۔

Comments

- Advertisement -