The news is by your side.

Advertisement

ایسا عجیب جانور جو شاید آپ نے پہلے نہ دیکھا ہو، ویڈیو دیکھیں

ملائیشیا سے تعلق رکھنے والا  یہ جانور اپنی نسل کا سب سے بڑا جانور ہے یہ واحد تاپیر ہے جو براعظم ایشیا سے تعلق رکھتا ہے، ملائین تاپیر دیکھنے میں ویسے تو عجیب سا نظر آتا ہے تاہم نسلی اعتبار سے یہ گھوڑے اور دریائی گھوڑے کی جسامت سے زیادہ قریب ہے او ر اس کے منہ پر ہاتھی جیسی سونڈ کا بھی گمان ہوتا ہے۔

مقام و مسکن:

ملائشین تاپیر جن ممالک میں پایاجاتا ہے ان میں لاوس۔ کمبوڈیا۔ انڈونیشیا ۔ ملائیشیا ۔ برما اور تھائی لینڈ شامل ہیں۔ یہ جانور گھنے اور برساتی جنگلوں میں رہتا ہے جہاں اس کی خوراک باآسانی دستیاب ہوجائے۔

خوراک:

ملائیشیائی تاپیر بنیادی طور پر گھاس خور جانور ہے، یہ 130 مختلف اقسام کے پودے اور درختوں کے پتے کھا کر گزارہ کرتا ہے۔

جسمانی پیمائش:

تاپیر کی جسمانی لمبائی 8 فٹ تک بڑھ سکتی ہے جبکہ اس کی دم مزید 10 سینٹی میٹر تک ہوتی ہے۔
عام طور پر اس کا وزن320 کلو گرام تک بڑھ سکتا ہے تاہم کچھ ملائین تاپیروں کا وزن 540 کلو تک بھی ریکارڈ کیا گیا ہے۔

افزائش نسل:

ملائیشیائی تاپیر کی افزائش سال کے تین ماہ اپریل، مئی اور جون میں ہوتی ہے تاہم یہ تاپیر 2 سال میں صرف ایک مرتبہ ہی بریڈنگ کرتے ہیں۔

تاپیر کی اس نسل میں واحد بچھڑے کی پیدائش 395 دن بعد ہوتی ہے جو پیدائش کے وقت 6 سے 7 کلو کا ہوتا ہے۔
پیدائش کے وقت بچھڑے کے جسم پر سفید دھاریں ہوتی ہیں جو کہ بڑا ہونے کے ساتھ ساتھ ختم ہوتی چلی جاتی ہیں۔ یہ جانور3 سال کی عمر میں بلوغت کو پہنچتا ہے۔

رہن سہن :

ملائشین تاپیر کی نظر بے حد کمزور ہوتی ہے اور اس کی نقل و حرکت کا انحصار سونگھنے اور سننے کی بہترین صلاحیت پر ہے۔
عام طور پر یہ اکیلا رہنے والا جانور ہے جو پانی کے قریب رہنا پسند کرتا ہے اور پانی و کیچڑ میں وقت گزارنا پسند کرتا ہے۔

تاپیر اپنا علاقہ متعین کرکے رکھتا ہے اور اکثر جانوروں کی طرح یہ بھی دیگر نر تاپیروں کو اپنے علاقے میں برداشت نہیں کرتا۔
ملائین تاپیر رات کے وقت چرنے نکلتا ہے۔ اس کی عمر 30 سال تک ریکارڈ کی گئی ہے۔

خطرات:

تاپیر کی اس قسم کو دیگر نایاب جانوروں کی اقسام کی طرح جنگلات کی مسلسل کٹائی اور مسکن کی تباہی کی وجہ سے معدومی کے سخت خطرات لاحق ہیں۔

ساتھ ہی باگھ اور ایشیائی جنگلی کتے بھی تاپیر کا شکار کرتے ہیں اور جنگلوں میں رہائش پذیر کچھ انسانی قبائل بھی اس کو شکار کرکے کھاتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں