مالدیپ : یکم جنوری 2007 کے بعد پیدا ہونے والے افراد پر بڑی پابندی عائد کر دی گئی ہے، جو یکم نومبر سے نافذ العمل ہو گئی۔
تفصیلات کے مطابق مالدیپ نے یکم جنوری 2007 یا اس کے بعد پیدا ہونے والے افراد کے لیے تمباکو مصنوعات کی خرید و فروخت اور استعمال پر دائمی پابندی عائد کر دی۔
وزارت صحت نے اعلان کیا یہ پابندی یکم نومبر سے نافذ العمل ہو گئی ہے اور نئی قانون کے تحت کسی بھی شخص کو، جو یکم جنوری 2007 یا اس کے بعد پیدا ہوا ہو، تمباکو مصنوعات خریدنے، استعمال کرنے یا فروخت کیے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
یہ قانون صدر محمد مویزّو نے مئی میں منظور کیا تھا اور اس کا مقصد "تمباکو سے پاک نسل” قائم کرنا اور عوامی صحت کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
وزارت صحت کا کہنا تھا کہ یہ نسل پر مبنی پابندی نوجوان مالدیویوں کو تمباکو کے مہلک اثرات سے آزاد رکھنے کے لیے ایک اہم قدم ہے اور عالمی ادارہ صحت کے فریم ورک کنونشن برائے تمباکو کنٹرول کے تقاضوں کے مطابق ہے۔
تمام ریٹیلرز کے لیے ضروری ہے کہ وہ فروخت سے قبل خریدار کی عمر کی تصدیق کریں، اور یہ پابندی تمام تمباکو مصنوعات پر لاگو ہوگی۔
وزارت صحت نے تصدیق کی کہ الیکٹرانک سگریٹ اور ویپنگ مصنوعات پر بھی ہر عمر کے افراد کے لیے مکمل پابندی برقرار ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں سخت جرمانے ہیں: نابالغ کو تمباکو فروخت کرنے پر 50,000 رفیعہ ($3,200) جرمانہ اور ویپ استعمال کرنے پر 5,000 رفیعہ ($320) جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
یہ اقدام صدر محمد مویزّو کی سال 2025 میں شروع کی گئی پالیسی کا حصہ ہے اور مالدیپ کو عالمی سطح پر تمباکو پر پابندی نافذ کرنے والا پہلا ملک بنا دیتا ہے۔
خیال رہے برطانیہ میں اس طرح کی پابندی ابھی قانونی مراحل سے گزر رہی ہے، جبکہ نیوزی لینڈ نے نومبر 2023 میں اپنی نسل پر مبنی پابندی کو ختم کر دیا تھا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


