The news is by your side.

Advertisement

مقتول متورکئی کے بھائی نے قتل کی ذمہ داری پی ٹی ایم رہنماؤں پر عائد کردی

میرانشاہ: خیسور واقعہ پر ڈپٹی کمشنر شمالی وزیرستان کی رپورٹ سامنے آگئی ہے ،مقتول متورکئی کےبھائی نےذمےداری منظورپشتین، محسن داوڑ اورعلی وزیر پرعائد کردی۔

تفصیلات کے مطابق پاک فوج کی حمایت میں بیان دینے والے مقتول متورکئی کےبھائی پرخے جان نے6 افراد پر قتل کی ذمے داری عائد کی ہے، جس میں پاکستان مخالف تنظیم ’پی ٹی ایم‘ سے تعلق رکھنے والے تین رہنما بھی شامل ہیں۔

اس حوالے سے تحصیلدار میرعلی نے ڈپٹی کمشنر کو رپورٹ جمع کرا دی ہے ، رپورٹ میں مقتول متورکئی کے بھائی پرخے جان کا بیان بھی شامل ہے۔

یا درہے کہ کچھ عرصہ قبل حیات خان کے غلط بیان پرمبنی ویڈیو سامنے آئی تھی، جس میں پاک فوج پر الزامات عائد کیے گئے تھے۔ مقتول متورکئی نے مشران کے جرگے میں بیان دیا تھا کہ فوج کے چھاپے کے وقت میں وہاں موجود تھا اور ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا تھا۔

ملک دشمن ’پی ٹی ایم‘ کو بے نقاب کرنے والا ’ملک متورکئی‘ قتل

مقتول کے بھائی پرخے جان نے اپنےبیان میں کہا ہے کہ میرا بھائی ویڈیو کے حوالے سےتمام دنیا کواصل حقائق بتاناچاہتا تھا۔ پی ٹی ایم نےشامل ہوکر میرااورمیرے بھائی کاگھرگرانے کی کوشش کی، ڈی آئی خان میں بھی وزیرجرگے کے ذریعےہمارے گھر گرانے کی کوشش کی۔

پرخے جان کا کہنا ہے کہ ناکامی پر مجھے اور بھائی کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں، 9 فروری کو 2موٹرسائیکل سواروں نےنورنگ لکی مروت میں مجھ پرفائرنگ کی۔ فائرنگ سے میری جان بچ گئی۔

مقتول کے بھائی کا کہنا ہے کہ 10 فروری کو میرے بھائی گل شماد خان عرف متورکئی کوشہید کردیا،بھائی کے قتل کی ذمے داری منظورپشتین،محسن داوڑ،علی وزیر، مالک نصراللہ پر ہے،ڈاکٹر گل عالم اور عید رحمان بھی اس قتل میں ملوث ہیں۔تمام افراد غیرقانونی جرگے اور خیسور واقعہ کے ذمے دار ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں پی ٹی ایم کی جانب سے پاک فوج کے افسران پر خواتین سے بدسلوکی الزامات پر جرگے کے سامنے حلفیہ طور پر ان الزامات کرنے والے ملک متورکئی  کو ٹارگٹ کلنگ میں قتل کردیا گیا ہے،انہوں نے نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ چھاپے کے وقت وہ فوج کے ہمراہ تھا اور ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا، جیسا کہ پی ٹی ایم کی جانب سے بیان کیا جارہا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں