منگل, جون 9, 2026
اشتہار

ملکہ پکھراج: فنِ گائیکی کا بڑا نام

اشتہار

حیرت انگیز

ٹھمری کے انگ میں غزل گائیکی کا ایک منفرد اور بڑا نام ملکہ پکھراج کا ہے۔ آج نہ وہ گیت نگار ہیں، نہ سنگیت کار اور نہ ہی ساز و آلاتِ موسیقی وہ رہے جو کبھی سُر کھینچنے اور تان لگانے والے کے فن کی شان ہوا کرتے تھے، مگر موسیقی اور گائیکی کی برصغیر کی تاریخ آج بھی پُرکشش ہے اور ملکہ پکھراج کا نام بھی زندہ ہے۔ سُر ان کے سامنے گویا ہاتھ باندھے کھڑے رہتے، وہ جو کچھ گنگناتیں ذہن پر نقش ہو جاتا۔ انھیں پہاڑی اور ڈوگری زبانوں کے لوک گیت گانے میں جو کمال حاصل تھا، اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔

ملکہ پکھراج برصغیر پاک و ہند میں کلاسیکی گائیکی اور راگ راگنیوں کی ماہر مغنّیہ تھیں۔ آج ان کی برسی منائی جا رہی ہے۔ وہ 2004ء میں انتقال کرگئی تھیں۔

ملکہ پکھراج کی گائیکی کا آغاز اسی وقت ہوگیا تھا جب وہ مذہبی جلوس اور محافل میں مرثیے اور منققبت سنانے لگی تھیں۔ ان کی آواز اور سُر سنگیت ان کے چھوٹے سے گاؤں میں محرّم کے جلوس سے نکل کر اس وقت کی ریاست جمّوں کے مہاراجہ کے دربار تک پہنچی اور پھر ان پر قسمت مہربان ہوگئی۔ وہ اپنے زمانہ میں لاہور اور پھر لاہور سے کراچی تک اپنے فن کی بنیاد پر مدعو کی جانے لگیں اور پھر تقسیم کے بعد انھیں ریڈیو پاکستان اور ٹیلی ویژن پر پرفارمنس کا موقع ملا تو ہر خاص و عام میں‌ پہچانی گئیں۔

ملکہ پکھراج کا اصل نام حمیدہ تھا۔ وہ 1910ء میں جمّوں کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئیں۔ اردو اور فارسی زبانوں پر عبور اور ادب کا اعلیٰ ذوق رکھنے والی اس مغنّیہ نے قیامِ پاکستان کے بعد ملکہ پکھراج کے لقب سے خوب شہرت سمیٹی۔ ٹھمری، غزل اور بھجن کے ساتھ موسیقی کی متعدد اصناف میں انھوں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ ملکہ پکھراج کی آواز میں اردو زبان کے معروف شاعر حفیظ جالندھری کا گیت ‘ابھی تو میں جوان ہوں’ بہت مشہور ہوا اور ملکہ پکھراج کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہوا۔ پھر مشہور شاعر عبدالحمید عدم کی غزل ‘وہ باتیں تیری فسانے تیرے’ بھی ملکہ پکھراج کی آواز میں‌ ہر زبان پر تھیں۔

ملکہ پکھراج کے شوہر سید شبیر حسین شاہ اعلیٰ تعلیم یافتہ سرکاری افسر تھے جن کا ایک ناول جھوک سیال بہت مشہور ہے۔ ملکہ پکھراج نے کم عمری ہی میں گانا شروع کر دیا تھا۔ مشہور ہے کہ انھیں نو سال کی عمر میں جموں میں مہاراجہ ہری سنگھ کی تاج پوشی کی تقریب میں اپنی آواز کا جادو جگانے کا موقع ملا تھا۔ وہاں سامعین میں والیِ ریاست، منصب دار، کئی امرا اور بااثر شخصیات کے علاوہ فن کار بھی ان کی آواز اور فن پر گرفت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ مہاراجہ نے ملکہ پکھراج کو دربار سے وابستہ کر لیا اور ملکہ پکھراج اگلے نو سال تک وہیں رہیں۔

حکومتِ پاکستان نے ملکہ پکھراج کو صدارتی تمغا برائے حسنِ کارکردگی عطا کیا تھا۔ پاکستان کی اس نام ور گلوکارہ کی ایک آپ بیتی بھی شایع ہوئی جو بہت مقبول ہے۔ ملکہ پکھراج شاہ جمال کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں