کراچی: ملیر جیل سے 225 قیدیوں کے فرار ہونے کے واقعے کی تحقیقات مکمل کرلی گئیں، فرار کی بڑی وجوہات سامنے آگئیں۔
رپورٹ میں قیدیوں کے فرار میں جیل انتظامیہ کی غفلت، لاپروائی اور ناقص سیکیورٹی انتظامات کو بڑی وجوہات قرار دیا گیا ہے، قیدیوں کا فرار صرف زلزلے کا نتیجہ نہیں تھا، قیدیوں کے اجتماعی فرارکی ذمہ داری 3 جیل افسران پر عائد کی گئی ہے۔
شاہ لطیف ٹاؤن تھانے میں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ ملیر جیل کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا، سپرنٹنڈنٹ ارشد شاہ، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ذوالفقار پیرزادہ اور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ عبداللہ خاصخیلی کو نامزد کیا گیا ہے۔
لانڈھی جیل سے 225 قیدی فرارہوئے تھے، جس میں سے 188 قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کرلیا گیا، تاہم اب بھی جیل سے بھاگنے والے 37 قیدی تاحال فرار ہیں۔
محکمہ داخلہ نے 10 اکتوبر کو نامزد افسران کیخلاف کارروائی کا حکم دیا تھا، مقدمہ مزید تفتیش کےلیے انچارج سی آئی سی ملیر ڈویژن کے سپرد کیا گیا ہے۔


