The news is by your side.

Advertisement

ماہرین نے بلوچستان میں غذائی کمی کے مسئلے کو سنگین قرار دے دیا

کوئٹہ: محکمۂ صحت کی جانب سے غذائی کمی کے عنوان پر منعقدہ مشاورتی سیمینار میں ماہرین نے بلوچستان میں غذائی کمی کے مسئلے کو سنگین قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق کوئٹہ میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ صحت نصیب اللہ مری نے کہا کہ صوبے میں غذائی قلت کا مسئلہ سنگین ہے، نیوٹریشن پروگرام کو دور دراز علاقوں تک لے کر جائیں گے۔

چار لاکھ میں سے 31 ہزار 450 بچے غذائی قلت کا شکار نکلے۔

اسکریننگ رپورٹ

نصیب اللہ مری نے کہا ’بلوچستان میں غذائی قلت پر توجہ نہ دی گئی تو افریقی ممالک جیسے حالات پیدا ہو جائیں گے۔‘

قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے انسانی ترقی پر وسائل خرچ نہیں کیے۔

قاسم سوری نے ماں اور بچے کی غذائی قلت ملک کا سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کو معاشرے میں نظر انداز کیا گیا، غذائی قلت دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔


یہ بھی پڑھیں:  بلوچستان میں آلودہ پانی سے متعلق کیس: 2 ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت


دریں اثنا حکام کی جانب سے پیش کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ 2 سال میں بلوچستان میں 4 لاکھ بچوں کی اسکریننگ کی گئی، 4 لاکھ میں سے 31 ہزار 450 بچے غذائی قلت کا شکار نکلے، جب کہ 18 ہزار 203 بچوں کو طبی سہولتیں فراہم کی گئیں۔

واضح رہے غذائی قلت اور مہلک بیماروں کے شکار سینکڑوں بچے صوبۂ سندھ کے علاقے تھر میں بھی نا کافی سہولیات کے باعث جاں بحق ہو جاتے ہیں تا ہم چاہے سندھ ہو یا بلوچستان حکومت، ان وبائی امراض اور غذائی قلت پر تا حال قابو نہیں پا سکی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں