The news is by your side.

Advertisement

مسلم حاملہ خاتون پر تشدد کرنے والا آسٹریلوی شخص گرفتار

سڈنی : آسٹریلوی پولیس نے مسلمان حاملہ خاتون کو ہوٹل پر کھانا کھاتے وقت سرعام تشدد کا نشانہ بننے والے انتہاپسند شخص کو گرفتار کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا کی ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے شہر پارمٹا میں 43 سالہ انتہا پسند آسٹریلوی شخص نے ایک ہوٹل میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھانا کھانے والی 31 سالہ مسلمان حاملہ خاتون رانا حیدر پر حملہ کیا تھا۔

انتہاپسند شخص کی جانب سے مسلمان حاملہ خاتون کو تشدد کی سی سی ٹی وی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد آسٹریلیا کی سوشل میڈیا اور اسلامی تنظیموں نے واقعے کے خلاف آواز اٹھائی تھی جب کہ متاثرہ خاتون نے بھی واقعے سے متعلق فیس بک پر پوسٹ کی تھی۔

امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ویڈیو سامنے آنے کے بعد اور متاثرہ خاتون کی جانب سے فیس بک پوسٹ کیے جانے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے انتہاپسند شخص کو گرفتار کرلیا۔

رپورٹ کے مطابق انتہاپسند شخص کی معلومات کو سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے خفیہ رکھا گیا ہے، آسٹریلیا میں مسلمانوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے حکومت اور پولیس کے خلاف ’اسلاموفوبیا‘ کے بڑھتے تشدد کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ پولیس نے حملہ آور کیخلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے ضمانت مسترد کردی تھی، آسٹریلوی پولیس کا کہنا تھا واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

انتہا پسند شخص کا مسلمان حاملہ خاتون پر بدترین تشدد، ویڈیو وائرل

خیال رہے کہ کچھ روز قبل ترقی پسند ممالک میں نسلی امتیازاورتعصب بڑھنےلگا، انتہا پسند شخص کی حجاب پہنی مسلمان حاملہ خاتون پر حملہ کی ویڈیو وائرل ہوگئی تھی، جس میں سفاک شخص نے مسلم خاتون کو بدترین تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے اس کے سر کو اپنے پیروں تلے روند ڈالا تھا۔

یاد رہے رواں ماہ میں فرانس کے دارالحکومت پیرس میں لاکھوں کی تعداد میں مظاہرین نے دنیا بھر کی طرح فرانس میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کے خلاف شدید احتجاج کیا، اسلاموفوبیا کے خلاف ہونے والے 2 کلومیٹر طویل احتجاج میں ہر رنگ و نسل و مذہب کے افراد نے شرکت کی اور متعصبانہ اور مسلم مخالف رویوں کے خلاف نعرے بازی کی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں