The news is by your side.

Advertisement

دبئی لاک ڈاؤن، ایک بیوی کے گھر سے دوسری اہلیہ کے گھر جانے کی اجازت ہے؟

دبئی: متحدہ عرب امارات کے شہری نے کرونا لاک ڈاؤن کے دوران اپنی پہلی بیوی سے دوسری اہلیہ کے گھر جانے کے لیے حکومت سے اجازت مانگ لی۔

گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق دبئی پولیس کے سینئر آفیسر نے عوام کو آگاہی دینے اور اُن کے سوالات کے جوابات دینے کے لیے مقامی ریڈیو پروگرام میں شرکت کی جس میں کالرز نے کال کر کے مختلف سوالات کیے۔

اسی دوران ایک کالر کی کال موصول ہوئی جس نے ریڈیو میزبان اور پولیس آفیسر سے علیک سلیک کے بعد اپنا مسئلہ بیان کیا۔

کالر نے بتایا کہ ’میں نے دو شادیاں کی ہوئی ہیں اور دونوں بیویاں علیحدہ علیحدہ گھروں میں رہتی ہیں، تو کیا مجھے پہلی اہلیہ کے گھر سے دوسری کے ہاں جانے کے لیے بھی اجازت طلب کرنا ضروری ہے؟‘۔

دبئی پولیس کے بریگیڈیئر سیف مہائیر ال مزروئی نے سوال سننے کے بعد زور دار قہقہ لگایا اور کہا کہ ’یہ بہت اچھا طریقہ ہے کہ جب آپ ایک بیوی کی شکل نہ دیکھنا چاہیں تو گھر سے نکل جائیں گے مگر ایسا ممکن نہیں ہے‘۔

مزید پڑھیں: کرونا وائرس، دبئی کے سرکاری محکمے نے جو کہا وہ کر دکھایا

بریگیڈیئر مہائیرال مزروئی نے بتایا کہ مجھے اس طرح کے کئی سوالات اور بھی لوگوں نے بھیجے، گھر سے شہریوں کو اُس وقت نکلنے کی اجازت ہے جب انہیں کوئی ایمرجنسی ہو، بصورت دیگر اُن کے خلاف کارروائی کی جائے گی‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن میں سختی عوام کی حفاظت کے لیے ہی کی گئی تاکہ سب کو کرونا وائرس سے محفوظ رکھا جاسکے اور وبا کو پھیلنے سے روکا جائے۔

دبئی پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ’عمومی طور پر ایک گھر سے دوسرے گھر جانا غیر ضروری کام ہے، ہم سڑکوں پر عوامی نقل و حرکت کو روکنا چاہتے ہیں، تھوڑی سی سختی اور احتیاط کے بعد جلد ہی سب پہلے جیسا ہوجائے گا اور ہم معمول کے مطابق زندگی گزار سکیں گے‘۔

ایک اور کالر نے پوچھا کہ کیا وہ اپنے پالتو جانور کے ساتھ باہر نکل کر چہل قدمی کرسکتے ہیں؟۔

یہ بھی پڑھیں: دبئی، افواہیں پھیلانے والا شخص گرفتار

بریگیڈیئر مہائیرال کا کہنا تھا کہ ’حکومتی احکامات کے مطابق صرف مخصوص شعبوں کو ہی گھروں سے نکلنے کی اجازت ہے، اس کے علاوہ کوئی بھی بنا ضرورت گھر سے باہر نہیں نکل سکتا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں