site
stats
عالمی خبریں

لاس ویگاس میں برطانوی شہری کی ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش

لاس ویگاس : برطانوی شہری مائیکل اسٹیون اسٹیفرڈ نے گزشتہ روز ایک انتخابی ریلی کے دوران امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ کردیا،ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ محفوظ رہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکہ کے شہر لاس ویگاس میں امریکی صدر کے لیے جاری انتخابات کے سلسلے میں ایک ریلی منعقد کی گئی تھی، یہ ریلی ممکنہ امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابہ مہم کا حصہ تھی۔

ریلی کے دوران برطانوی شہری اسٹیون اسٹیفورڈ نے امریکی صدارتی امیدواراور اپنے متنازعہ و نفرت آمیز بیانات کے لیے شہرت رکھنے والے ڈونلڈ ٹرمپ پر برطانوہ باشندے نے آٹو گراف لینے کے بہانے قاتلانہ حملہ کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجینسی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ لاس ویگاس میں انتخابی ریلی میں شریک تھے کہ برطانوی شہری مائکل اسٹیون نامی برطانوی شہری نے پولیس اہلکار سے کہا کہ وہ ٹرمپ کا آٹوگراف لینا چاہتا ہے اور اسی دوران مائیکل اسٹیفرڈ نے پولیس اہلکار کی پشت پر لگے ہولسٹر سے گن نکالنے کی کوشش کی لیکن اہلکار نے اسے فوری قابو کرلیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق مائیکل اسٹیون اسٹینفرڈ کو قاتلانہ حملہ کرنے کی کوشش کرنے پر گرفتار کر کے آج عدالت میں پیش کیا گیاہے جہاں پولیس حکام نے موقف اختیار کیا کہ اسٹینفرڈ معاشرے کے لیے خطرہ ہے اس لئے معزز عدالت ملزم کو ضمانت نہ دے، جس پر عدالت نے ملزم کو 5 جولائی تک کے ریمانڈ پردپولیس کی تحویل دے دیا۔

پولیس کے مطابق ملزم اسٹیون اسٹینفرڈ نے ابتدائی تفتیش میں اعتراف کیا ہے کہ وہ کیلیفورنیا سے لاس ویگاس صرف اس وجہ سے آیا تھا تا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرسکے جس کے لیے ملزم نے فائرنگ کی تربیت بھی حاصل کی تھی۔

ملزم اسٹینفرڈ نے دعویٰ کیا کہ اگر لاس ویگاس میں حملہ ناکام ہوجاتا تو آئندہ فینکس میں ہونے والے جلسے میں ملزم ڈونلڈ ٹرمپ پر دوبارہ قاتلانہ حملہ کرتا جس کے لیے ملزم نے پہلے ہی سے ٹکٹ خرید رکھا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجینسی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ اور ملزم کی گرفتاری کے حوالے سے برطانوی دفترِ خارجہ سے رابطہ کرنے پر دفتر خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ لاس ویگاس میں برطانوی شہری کو گرفتار کیا گیا ہے اورہم اسے قانونی مدد فراہم کررہے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top