The news is by your side.

Advertisement

ٹک ٹاک اسٹار کے گھر پر حملہ، والد نے کیا کیا؟

امریکا میں ایک 13 سالہ سوشل میڈیا انفلوئنسر اس وقت خوفناک صورتحال سے دو چار ہوگئی جب اس کا ایک مداح جنونی ہو کر اسلحہ لے کر اس کے گھر پہنچ گیا، اور انفلوئنسر کے والد کی فائرنگ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

امریکی ریاست فلوریڈا کی ایوا گریس نے سنہ 2020 میں ٹک ٹاک پر ویڈیوز بنانا شروع کی تھیں اور جلد ہی اس کے فالوورز کی تعداد 10 لاکھ تک جا پہنچی، اس وقت اس کی عمر 13 سال تھی۔

اس وقت ایک 18 سالہ لڑکے ایرک جسٹن نے اس سے رابطہ کیا اور اسے پیغامات بھیجنے شروع کردیے۔

جسٹن نے ایوا کے دوستوں اور کلاس میٹس سے بھی رابطہ کیا اور انہیں پیسے دے کر ایوا کی تصاویر اور فون نمبر خریدا۔

کچھ مواقع پر ایوا نے خود بھی اپنے والدین کی اجازت سے اپنی کچھ تصاویر جسٹن کو فروخت کیں، یہ وہ تصاویر تھیں جو ایوا پہلے ہی سوشل میڈیا پر شیئر کر چکی تھی۔

جلد ہی جسٹن کے مطالبات میں اضافہ ہوگیا اور اس نے قابل اعتراض تصاویر مانگنا شروع کردیں جس کے بعد ایوا نے اسے بلاک کردیا، جسٹن نے اسے 600 ڈالرز روانہ کیے اور درخواست کی وہ اسے ان بلاک کردے۔

یہاں پر ایوا کے والد نے جسٹن سے رابطہ کیا، ایوا کے والد بوب سابق پولیس افسر تھے، انہوں نے سختی سے جسٹن کو منع کیا کہ وہ اب ایوا سے رابطہ نہ کرے۔

اس کے بعد جسٹن نے ایوا کے گھر پہ حملہ کرنے اور گھسنے کا منصوبہ بنایا، اس کے لیے اس نے ایک دوست سے گن حاصل کی۔ ایک صبح ساڑھے 4 بجے وہ ایوا کے گھر پر پہنچا اور مرکزی دروازے پر فائرنگ شروع کردی۔

فائرنگ سے گھر والے گھبرا کر اٹھے، بوب نے اٹھ کر دیکھا تو دروازے کے دوسری طرف جسٹن کو پایا، انہیں دیکھ کر جسٹن فرار ہوگیا۔

بوب نے اس کا پیچھا کیا لیکن تھوڑی دیر بعد وہ واپس گھر آ کر اپنی گن تلاش کرنے لگے، اس دوران ایوا کی والدہ نے پولیس کو فون کردیا تھا، ایوا کے والد پولیس کا انتظار کرنے لگے لیکن اسی وقت جسٹن واپس پلٹ کر ایوا کے گھر آیا۔

جسٹن نے آتے ہی ایوا کے والد پر بندوق تان لی جس پر انہوں نے اپنے دفاع میں جسٹن پر گولی چلا دی جو اس کی گردن میں لگی، بعد ازاں جسٹن اسپتال میں دم توڑ گیا۔

پولیس نے جسٹن کی تحویل سے 2 موبائل فون برآمد کیے جن میں سے ایک میں ایوا کی ہزاروں تصاویر موجود تھیں۔

فلوریڈا میں اپنی حفاظت کے قانون کے تحت ایوا کے والد کو کوئی سزا نہیں ہوئی کیونکہ انہوں نے اپنے دفاع میں گولی چلائی، تاہم اس ہولناک واقعے کے بعد ایوا کے خاندان کو وہاں سے منتقل ہونا پڑا اور ایوا نے گھر میں ہی تعلیم شروع کردی۔

اب اس واقعے کے 2 سال بعد یہ خاندان رفتہ رفتہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹ رہا ہے جبکہ ایوا نے بھی ایک بار پھر سوشل میڈیا کنٹینٹ شیئر کرنا شروع کردیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں