(6 جنوری 2026): بعض اوقات انسان غصے میں ایسا قدم اٹھا لیتا ہے جس کا زندگی بھر پچھتاوا رہتا ہے جیسا کہ اس شخص نے کیا۔
میاں بیوی میں لڑائی جھگڑا اور ناراضی ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ تاہم ایک شخص نے ناراض بیوی کے میکے سے واپس نہ آنے پر سنگین قدم اٹھا لیا۔
یہ افسوسناک واقعہ بھارتی ریاست تلنگانہ میں پیش آیا، جس نے سب کے دل دہلا کر رکھ دیے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق شیورامولو نے ناراض ہو کر میکے جانے والی بیوی کے گھر واپس نہ آنے پر سارا غصہ اپنے دو معصوم بچوں پر اتارتے ہوئے انہیں زندگی کی قید سے آزاد کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق شیو رامولو نے بیوی کے میکے سے واپس نہ آنے پر اپنی 9 سالہ بیٹی رتک اور 6 سالہ بیٹے چیتنیہ کو پھانسی دے کر قتل کر دیا اور اس کے بعد لاشیں تالاب میں پھینک دیں۔
بچوں کو قتل کرنے کے بعد مذکورہ شخص نے خود کو بھی ختم کرنے کی کوشش کی۔ پہلے برقی تار پکڑ کر کرنٹ لگا کر مرنے کی کوشش کی، ناکامی پر جراثیم کش دوا پی، لیکن زندگی کی ڈور نہ ٹوٹی۔
اہل علاقہ نے شیورامولو کو سرکاری اسپتال منتقل کر دیا جہاں وہ زیر علاج ہونے کے ساتھ ساتھ پولیس کے زیر تفتیش بھی ہے۔


