The news is by your side.

Advertisement

ایک قتل کو چھپانے کے لیے مزید 9 قتل

نئی دہلی: بھارت میں ایک مزدور نے ایک خاتون کو قتل کرنے کے بعد اس کی معلومات سے بچنے کے لیے اس کے خاندان کے مزید 9 افراد کو قتل کردیا، قاتل نے تمام افراد کو بے ہوش کرنے والی دوا دے کر ہاتھ پاؤں باندھ کر کنویں میں پھینک دیا تھا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق دوسری ریاست سے آئے ایک مزدور نے 2 ماہ قبل کیے گئے ایک قتل کو چھپانے کے لیے مزید 9 قتل کردیے، پولیس نے مبینہ قاتل کی شناخت سنجے کمار یادو کے نام سے کی ہے۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ تمام لاشوں کو کنویں سے دریافت کیا گیا۔

مقتولین میں سے 6 ایک ہی خاندان کے افراد ہیں جن کی شناخت 55 سالہ مقصود، اہلیہ 48 سالہ نشا، بیٹے 21 سالہ شہباز، 18 سالہ سہیل، بیٹی 20 سالہ بشریٰ، اس کا 3 سالہ بیٹا شعیب اور ان کے علاوہ بہار کے رہنے والے 21 سالہ سری رام، 22 سالہ شیام اور تری پورہ کا رہنے والا 30 سالہ شکیل کے نام سے کی گئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مقصود عالم 20 سال قبل مغربی بنگال سے اہلیہ نشا اور بچوں کے ساتھ ورنگل آیا تھا جبکہ کچھ دنوں بعد نشا کی مطلقہ بہن رفیقہ بھی اپنے 3 بچوں کے ہمراہ یہاں آگئی تھی۔ یہاں رفیقہ کی ملاقات قاتل سنجے کمار یادو سے ہوئی۔

سنجے، رفیقہ کو شادی کا جھانسہ دے کر اس کی بیٹی سے قربت اختیار کر رہا تھا جس پر رفیقہ کی برہمی کے بعد گزشتہ مارچ میں سنجے شادی کا بہانہ بنا کر رفیقہ کو اپنے ساتھ لے گیا اور ٹرین میں اس کا گلا گھونٹ کر قتل کردیا۔ سنجے نے رفیقہ کی لاش کو ٹرین سے باہر پھینک دیا اور ورنگل واپس آگیا۔

کچھ دنوں بعد مقصود عالم نے سنجے سے رفیقہ کے بارے میں دریافت کیا اور اس دوران اسے سنجے پر شک ہوگیا۔ دوسری جانب سنجے نے مارچ میں کیے رفیقہ کے قتل کو چھانے کے لیے مقصود عالم کے خاندان کو بھی قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔

20 مئی کی رات کو سنجے نے مقصود عالم اور ان کے 3 پڑوسیوں کے کھانے میں نیند کی گولیاں ملاکر انہیں بے ہوش کردیا اور تمام افراد کے ہاتھ پاؤں باندھ کر انہیں کنویں میں پھینک دیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں سی سی ٹی وی فوٹیج نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں