The news is by your side.

Advertisement

18 ماہ بغیر دل زندہ رہنے والا شخص (ویڈیو)

مشیگن: امریکا میں ایک شخص 18 ماہ 20 دن تک بغیر دل زندہ رہا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی ریاست مشیگن کے ایک شہری اسٹین لارکن 555 دن تک بغیر دل کے زندہ رہے، اس دوران وہ اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلوں کی سرگرمیوں میں بھی بھرپور حصہ لیتے رہے۔

تقریباً دو سال تک موت کی دہلیز پر کھڑے رہنے والے لارکن نے اپنی ہمت سے لوگوں کو حیران کر دیا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسٹین لارکن کو 25 سال کی عمر میں فیملیئل ڈائلیٹڈ کارڈیومایوپیتھی (Familial dilated cardiomyopathy) کی بیماری لاحق ہوئی تھی، لارکن کی کہانی اس لیے بھی منفرد ہے کہ ان کے بڑے بھائی ڈومنیک کو بھی یہی بیماری لاحق تھی۔

دراصل یہ دل کی بیماریوں میں ایک جینیاتی مرض ہے، یہ تب لاحق ہوتا ہے جب دل کے کم از کم کسی ایک چیمبر میں پٹھے پتلے اور کم زور ہو جاتے ہیں، جس سے دل کے اس خانے کا کھلا حصہ بڑا (dilated) ہو جاتا ہے، نتیجے کے طور پر دل معمول کی طرح مؤثر انداز میں خون پمپ کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔

اسٹین لارکن کو دل کے ٹرانسپلانٹ کی ضرورت تھی اور انھیں مستقل طور پر اسپتال میں رہنا تھا تاکہ ڈاکٹر ان کی مسلسل نگرانی کر سکیں، ڈاکٹرز نے ان کی پشت پر ایک مصنوعی دل لگایا جو 555 دن تک دھڑکتا رہا، اور انھیں زندہ رکھا۔

2016 میں یونیورسٹی آف مشیگن کے امراض قلب کے مرکز کے ڈاکٹرز نے جب میچنگ دل والا ڈونر تلاش کر لیا تو انھوں نے لارکن کو مصنوعی دل سے ہٹا کر دل کی پیوند کاری کر دی۔

لارکن کے دل کے اسپیشلسٹ ڈاکٹر جوناتھن ہافٹ کا کہنا تھا کہ جب وہ پہلی بار لارکن سے ملے تو وہ آئی سی یو میں لائف سپورٹ کی بہت ساری مشینوں پر رفتہ رفتہ موت کی جانب بڑھ رہا تھا، اسے مصنوعی دل پر شک بھی تھا لیکن زندہ رہنے کے لیے وہ اس ڈیوائس کو اپنے ساتھ لگائے رکھتا تھا۔

دل کے ٹرانسپلانٹ کے بعد اسٹین لارکن صحت یاب ہو گئے اور وہ آج بھی زندہ ہیں، ان کے بڑے بھائی کا بھی 2015 میں دل کی پیوندکاری ہوئی تھی۔

دونوں بھائیوں میں لڑکپن ہی میں فیملیئل سی ڈی ایم کی تشخیص ہوئی تھی، یہ ہارٹ فیلیئر کی ایسی قسم ہے جو صحت مند لوگوں کو بغیر تنبیہ اچانک حملہ کر کے گرا دیتی ہے۔ یہ وہ حالت ہے جس کا ایتھلیٹس میں اچانک موت سے بھی تعلق ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں