site
stats
ماحولیات

منچھر جھیل آلودگی کیس: عدالت کا قابل افراد سے کام لینے کا حکم

کراچی: سپریم کورٹ رجسٹری میں منچھر جھیل کی آلودگی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے حکومت سندھ کی تشکیل کردہ ٹاسک فورس کا نوٹیفکیشن مسترد کردیا۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ ٹاسک فورس میں قابل اور باصلاحیت افراد و ماہرین شامل کیے جائیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ رجسٹری میں منچھر جھیل کی آلودگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت جسٹس امیر ہانی کی زیر سربراہی میں ہوئی۔ عدالت نے حکومت سندھ کی تشکیل کردہ ٹاسک فورس کا نوٹیفکیشن مسترد کردیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ ٹاسک فورس میں قابل اور باصلاحیت افراد و ماہرین کو شامل کیے جائے۔

یاد رہے کہ سندھ کے ضلع جامشورو میں واقع منچھر جھیل پاکستان کے بڑے آبی ذخائر میں سے ایک ہے۔ اس جھیل میں پانی کا ذریعہ مون سون کی بارشیں ہیں۔

manchar-3

اس جھیل کی موجودگی کے بارے میں کوئی حتمی تاریخ موجود نہیں لیکن یہ جھیل موہن جودڑو اور ہڑپہ کی تہذیبوں سے بھی قدیم ہے، گویا دنیا کی قدیم ترین جھیلوں میں سے ایک ہے۔

دوران سماعت جسٹس امیر ہانی نے کہا کہ تعلقات کی بنیاد پر عہدے ملتے ہیں۔ عدالت نے ڈی جی ای پی اے (ایجنسی برائے تحفظ ماحولیات) نعیم احمد بخاری کو سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ڈی جی ماحولیاتی ٹیکس کے پیسے مفت کھا رہے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حکومتی نا اہلی پر صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ ڈی جی نا اہل ترین شخص ہے۔ سندھ اور کراچی کے کروڑوں لوگوں کا قتل ہو رہا ہے۔

بعد ازاں عدالت نے ٹاسک فورس سے ڈی جی ای پی اے نعیم بخاری کو نکالنے اور ٹاسک فورس کی دوبارہ تشکیل کی ہدایت دہراتے ہوئے، جمعرات تک رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔

تاریخی جھیل آلودگی سے برباد

واضح رہے کہ کئی سال قبل کیے جانے والے ایک تحقیقاتی تجزیے سے پتہ چلا تھا کہ منچھر جھیل کا پانی نمکین پانی، کیمیائی مواد اور فضلے کی آمیزش کی وجہ سے زہریلا ہوچکا ہے اور پینے کے قابل نہیں رہا۔ یہاں کی آبی حیات اور پودے مر چکے ہیں یا ان کی تعداد میں خطرناک کمی آچکی ہے جبکہ اس پانی سے زراعت بھی ممکن نہیں رہی۔

جھیل کو آلودگی کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب 70 کی دہائی میں سندھ کے مختلف شہروں سے بڑی بڑی نکاسی آب کی لائنیں اور نہریں نکال دی گئیں جو ان شہروں کا فضلہ، صنعتوں کا زہریلا پانی اور زراعت میں استعمال کیے جانے والے زہریلے کیمیائی مواد سے بھرپور باقیات کو اس جھیل میں لانے لگیں۔

manchar-5

اسی طرح دریائے سندھ کے کناروں کو قابل کاشت بنانے کے لیے وہاں سے نمکین پانی بھی اسی جھیل میں ڈالا جانے لگا۔ یہ کام رائٹ بینک آؤٹ فال ڈرین (آر بی او ڈی) سسٹم کے ذریعہ کیا جارہا تھا۔

گو کہ بعد ازاں فیصلہ کیا گیا کہ دریائے سندھ کا نمکین پانی بحیرہ عرب میں بہا دیا جائے لیکن فنڈز کی کمی کے باعث یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا اور یہ پانی منچھر جھیل کو آلودہ اور زہریلا کرتا رہا۔

جھیل کی آلودگی کے باعث ہجرت کر کے آنے والے پرندوں نے بھی یہاں آنا چھوڑ دیا۔

اس جھیل کی ایک اور خوبصورتی یہاں آباد موہانا قبیلہ ہے جن کے گھر جھیل میں تیرتی کشتیوں پر آباد ہیں۔ یہ لوگ کئی نسلوں سے انہی کشتیوں پر رہ رہے ہیں۔

manchar-4

تاہم جھیل کا زہریلا اور آلودہ پانی ان لوگوں کی صحت اور گھروں (کشتیوں) کو تباہ کر رہا ہے جس کے باعث اب یہ خشکی پر منتقل ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top